ہومتازہ ترینبوٹسوانا کے صدر چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہش...

بوٹسوانا کے صدر چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہش مند

گیبرون (شِنہوا) بوٹسوانا کے صدر دوما گیڈین بوکو نے کہا ہے کہ بوٹسوانا اور چین کے تعلقات مضبوط ہیں اور بوٹسوانا تجارت، ڈیجیٹل معیشت، قابل تجدید توانائی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

چین کے اپنے پہلے سرکاری دورے سے قبل شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بوکو نے کہا کہ دونوں ممالک کئی برسوں سے انتہائی اچھے، مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ برسوں کے دوران جمہوریہ بوٹسوانا کو ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر معاونت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوٹسوانا چینی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے جس میں بوٹسوانا میں پہلے سے کام کرنے والی چینی کمپنیوں کا تجربہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بوٹسوانا میں چینی کمپنیوں کی موجودگی کو وسعت دینے اور مزید کمپنیوں کو ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں میں شرکت کی دعوت دینے کے خواہاں ہیں۔

بوکو نے کہا کہ بوٹسوانا چین کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بھی کرنا چاہتا ہے۔ ان کمپنیوں نے خام مال کو بہتر اور زیادہ قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لئے تحقیق اور ترقی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے بوٹسوانا میں مصنوعات کی تیاری کو فروغ ملے گا اور ملک چینی منڈی کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکے گا۔

رواں سال یکم مئی سے چین نے ان تمام 53 افریقی ممالک کی مصنوعات کو زیرو ٹیرف کی سہولت فراہم کر دی ہے جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں۔ اس اقدام کو چینی حکومت کا ایک نہایت خوش آئند اور قابل تحسین قدم قرار دیتے ہوئے بوکو نے کہا کہ اس سے افریقی مصنوعات کے لئے صارفین کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی پر مشتمل منڈی کے دروازے کھل گئے ہیں۔

بوٹسوانا کے ضلع کوینینگ کے علاقے موپانے میں چین کے تعاون سے قائم موپانے پرائمری سکول کے طلبہ سکول کے بعد فارغ وقت میں کھیل رہے ہیں-(شِنہوا)

انہوں نے کہا کہ اس سے افریقہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات مزید آسان اور ہموار ہوں گے اور ہماری معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم بوٹسوانا کے لئے اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہم ایسے معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے جن کے تحت ہمارے ملک کے ترش پھلوں کو زیرو ٹیرف کی سہولت کے تحت چین برآمد کیا جا سکے گا۔ یہ ہمارے ملک کے لئے ایک بہت بڑا فائدہ ہوگا۔

ڈیجیٹلائزیشن اور معیشت کو متنوع بنانے کے حوالے سے بوکو نے کہا کہ بوٹسوانا چین کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے پاس صلاحیت، طاقت اور استعداد موجود ہے کہ وہ اپنی مہارت اور صلاحیتوں کو بوٹسوانا کی معیشت، جنوبی افریقی ترقیاتی برادری (ایس اے ڈی سی) کے وسیع تر خطے اور پورے افریقی براعظم کے مفاد میں بروئے کار لا سکے۔

بوٹسوانا کے صدر نے مزید کہا کہ قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، بجلی کی بنیادی سہولت اور دیگر ماحول دوست صنعتوں کے شعبوں میں چین کا ترقیاتی تجربہ بالکل وہی ہے جس کی بوٹسوانا کو ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک چینی کاروباری اداروں کے لئے کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان کمپنیوں سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ انہیں اپنے ملک اور یہاں موجود مواقع کے بارے میں حقائق سے آگاہ کر سکیں۔ اس کے بعد وہ خود فیصلہ کر سکیں گی کہ وہ اپنی مہارت اور ٹیکنالوجی کو بوٹسوانا میں بروئے کار لانا چاہتی ہیں یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یقیناً ان شعبوں میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ دراصل اس کا مقصد پہلے سے موجود مضبوط بنیاد پر تعاون کو مزید آگے بڑھانا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں