ہومتازہ ترینیمن میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تین گھنٹوں کے دوران...

یمن میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تین گھنٹوں کے دوران 20 فضائی حملے

یمن (لارڈ میڈیا) یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ صوبہ طائز میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر صرف تین گھنٹوں کے دوران 20 فضائی حملے کیے گئے۔ ترجمان کے مطابق ان حملوں میں حوثیوں کی نقل و حرکت، کمک، جنگجوؤں کے اجتماعات، اہلکاروں، گاڑیوں اور سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں مطلوبہ اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور حوثیوں کو نقصان پہنچا۔

طائز میں تازہ فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد سرحد پار حملوں میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں طائز کے اطراف لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔

طائز یمن کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک اہم صوبہ ہے۔ تجزیے کے مطابق اگر حوثی اس علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں یمن کے شمالی علاقوں پر گرفت مضبوط کرنے، بحیرہ احمر کے ساحلی راستوں تک رسائی بڑھانے اور جنوبی شہر عدن کی جانب پیش قدمی کے لیے اہم جغرافیائی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔

حالیہ لڑائی کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ تنازع کے بحیرہ احمر اور باب المندب کی بحری گزرگاہوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے مدینہ منورہ میں ایک بجلی کی تقسیم گاہ کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کا حصہ ہے۔ حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

یمنی فوجی ذرائع کے مطابق طائز میں لڑائی وسیع پیمانے پر جاری ہے اور صوبے میں داخل ہونے والی تمام سڑکوں کو بند کرکے انہیں فوجی آپریشن کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 19 سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں جنوبی صنعا سے طائز جانے والا اہم راستہ بھی شامل ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں