پشاور (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر وفاق پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام 22 سال سے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء سے 2022ء تک خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا لیکن 2022ء میں ریاست کی غلط پالیسیوں کے باعث دوبارہ دہشت گردی لائی گئی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے بے مثال فنڈز فراہم کیے اور اس سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا عوام اور پولیس کی قربانیوں کے باعث ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے۔ پولیس شہداء پیکیج اور جدید آلات کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ NRTC کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے اور مطالبہ کیا کہ یہ آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا گیا ہے اور نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوس ناک ہے اور پولیس کو غلط احکامات کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں اور آئین کے تحت رائٹ ٹو اسمبلی ہمارے احتجاج کا حق دیتا ہے۔


