اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان نے اقوام متحدہ میں ٹوکنائزیشن، ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اور مستقبل کے مالیاتی نظام پر پہلے پالیسی ڈائیلاگ کی مشترکہ میزبانی کی۔ اس موقع پر ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل اور ترقی پذیر ممالک کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں بلال بن ثاقب کی قیادت کو پاکستان کے لیے اہم قرار دیا۔
چیئرمین پی وی اے آر اے بلال بن ثاقب نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے اور گلوبل ساؤتھ کو اس کے قواعد بنانے میں شریک ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں ٹیکنالوجی کو نہیں روکتیں بلکہ ریاست کو میدان سے باہر کر دیتی ہیں۔
بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ پاکستان نے 8 سالہ بینکنگ پابندی سے ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری نظام تک کا سفر 6 ماہ میں طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو کمیٹیوں کی نہیں، ٹیکنالوجی کی رفتار سے چلنا ہوگا، اور ٹوکنائزیشن سے ترسیلاتِ زر تیز اور سستی ہو سکتی ہیں۔
چیئرمین پی وی اے آر اے نے کہا کہ پاکستان میں قرضوں اور سکوک کی ٹوکنائزیشن پر غور جاری ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو بڑے قرار دیا، مگر کہا کہ بڑی آبادی ڈیجیٹل فنانس میں نئے مواقع بھی لا سکتی ہے۔


