ریاض (شِنہوا) سعودی عرب میں قائم انٹرنیشنل سنٹر فار اے آئی ریسرچ اینڈ ایتھکس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ماجد علی الشہری نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظم و نسق میں سب سے بڑا چیلنج اصولوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی سطح پر ایک مثال قائم کر سکتا ہے اور اے آئی کی جدت اور ضوابط کے درمیان توازن قائم کرنے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں اے آئی کی اخلاقیات سے متعلق چوتھے یونیسکو گلوبل فورم کے موقع پر شِنہوا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے الشہری نے کہا کہ اے آئی کے نظم ونسق کے بنیادی اصولوں پر پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر کسی حد تک اتفاق رائے موجود ہے جبکہ بعض ممالک نے اے آئی اخلاقیات کے اپنے فریم ورک، ضابطہ جاتی فریم ورک اور رہنما اصول تیار کئے ہیں۔
الشہری نے کہا کہ "اب چیلنج یہ ہے کہ ہم پالیسیوں سے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ کیا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ قواعد و ضوابط کی پابندی حل اور آلات تیار کرنے کی پوری ویلیو چین میں شامل ہو۔”
الشہری نے کہا کہ چین میں اے آئی کا ایک وسیع نظام موجود ہے، جس میں بنیادی ڈھانچہ، ڈیٹا سنٹرز، ٹیکنالوجیز اور مکمل صلاحیتوں کی حامل کمپنیاں شامل ہیں اس لئے وہ عالمی اے آئی نظم و نسق کے منظرنامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کے شعبے میں ایک نمایاں ملک کی حیثیت سے چین ’’جدت اور ضوابط کے درمیان توازن قائم کرنے کے مقصد کی جانب موثر طور پر اثرانداز‘‘ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کوششیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجیز مناسب حدود سے تجاوز نہ کریں جبکہ انسانیت ترقی کا سفر جاری رکھتے ہوئے بہترین ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھاتی رہے۔
الشہری نے کہا کہ ’’مجھے توقع ہے کہ چین اور دیگر ممالک اسی سمت میں کام کریں گے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اے آئی کے شعبے میں بڑی اقوام کی جانب سے اس توازن کے حوالے سے کچھ مثالی نمونے سامنے آئیں گے۔‘‘
الشہری نے بتایا کہ ریاض میں قائم انٹرنیشنل سنٹر فار اے آئی ریسرچ اینڈ ایتھکس کو 2023 میں یونیسکو کی سرپرستی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ مرکز دنیا بھر میں اے آئی استعمال کرنے والی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور چینی اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے لئے بھی فعال طور پر کام کر رہا ہے۔
الشہری نے کہا کہ مرکز اے آئی اخلاقیات میں ماسٹرز ڈگری پروگرام تیار کرنے کے لئے حال ہی میں اعلان کردہ اقدام میں چینی یونیورسٹیوں کو شامل ہونے کی دعوت دینے کا خواہاں ہے۔
اس اقدام کے تحت مرکز اے آئی اخلاقیات کے ماسٹرز ڈگری پروگرام کے اہم نکات اور بنیادی اجزاء متعین کرے گا جبکہ شریک یونیورسٹیاں اپنے قوانین اور تعلیمی نظام کے مطابق اپنا نصاب تیار کریں گی۔


