ہومتازہ ترینخدماتی تجارت میلے میں مصنوعی ذہانت نمایاں، روزمرہ خدمات کے جدید طریقے...

خدماتی تجارت میلے میں مصنوعی ذہانت نمایاں، روزمرہ خدمات کے جدید طریقے متعارف

اب بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک مصنوعی ذہانت سے مراد ایسے چیٹ بوٹس (گفتگو کرنے والے اے آئی پروگرام) ہیں جو تحریری مواد اور تصاویر تیار کرتے ہیں۔

تاہم بیجنگ میں میں منعقدہ چین کے خدماتی تجارت کے بین الاقوامی میلے(سی آئی ایف ٹی آئی ایس) میں چینی کمپنیوں نے یہ دکھایا کہ مصنوعی ذہانت کو لوگوں کے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی مزید مصنوعات اور خدمات کا حصہ کیسے بنایا جا رہا ہے۔

صحت اور سیاحت سے لے کر تعلیم تک خدمات کے وسیع ہوتے سلسلے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے جس سے جدت، صارفین کے بہتر تجربے اور بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی مسلسل وسعتاختیار کر رہا ہے جس میں بیماریوں کی ابتدائی جانچ اور تشخیص سے لے کر علاج کی منصوبہ بندی اور ہسپتالوں کے انتظام تک مختلف خدمات شامل ہیں۔

چین کے خدماتی تجارت کے بین الاقوامی میلے میں مصنوعی ذہانت کو روایتی چینی طب کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے روایتی چینی طب میں تشخیص کے طریقوں کو معیاری اعداد و شمار میں تبدیل کیا جا رہا ہے جن کا تجزیہ کرکے تشخیص اور علاج میں مدد لی جا سکتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): سوئی شیاؤ یو، سلوشنز منیجر، 365 میڈ اے آئی (بیجنگ) ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ
’’روایتی چینی طب میں مشاہدہ، سننا اور سونگھنا، مریض سے معلومات حاصل کرنا اور نبض دیکھنا شامل ہے۔ ہمارے تشخیصی آلات انسانی جسم سے حاصل ہونے والے معروضی اعداد و شمار جمع کرکے انہیں معیاری شکل دے سکتے ہیں۔
اس کے بعد ان معلومات کا روایتی چینی طب کے نظریات اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے تجزیہ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں علاج اور صحت کے انتظام سے متعلق منصوبے تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

سیاحوں کے لئے مصنوعی ذہانت سارے سفر کو آسان بنا رہی ہے۔ یہ آسانیاں سفر کی منصوبہ بندی اور بکنگ سے لے کر سیاحتی مقامات میں رہنمائی اور زبان کی رکاوٹیں دور کرنے تک کے مختلف مراحل میں سامنے آ رہی ہیں۔

خدماتی تجارت کے بین الاقوامی میلے میں سیاحوں کے لئےمصنوعی ذہانت سے چلنے والے ترجمانی کے نظام کو بھی پیش کیا گیا جس میں تقریر کی شناخت، لمحہ بہ لمحہ ترجمے اور آواز کی تخلیق کی ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): جیا ہوا، سینئر پروڈکٹ منیجر، آئی فلائی ٹیک
’’ہمارا بیک وقت ترجمانی کا ٹور سسٹم گائیڈ کو چینی زبان میں بات کرنے کی سہولت دیتا ہے جبکہ سیاح وائرلیس ہیڈ سیٹس کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ ترجمہ سن سکتے ہیں۔ اس نظام میں اس وقت 200 سے زائد چینی لہجوں اور 80 سے زیادہ غیر ملکی زبانوں کی معاونت موجود ہے۔
بین الاقوامی سیاح اس نظام کی مدد سے چینی ثقافت کی وسعت اور گہرائی کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔‘‘

تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو تعلیمی وسائل کے باہم مربوط کرنے، طلبہ کو ان کی ضروریات کے مطابق معاونت کی فراہمی اور سکولوں اور خاندانوں دونوں کی مدد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

چین کے خدماتی تجارت کے بین الاقوامی میلے میں بعض جدید ترین تعلیمی آلات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روزمرہ کلاس روم کی سرگرمیوں میں کیسے شامل کیا جا رہا ہے۔ ان میں سبق کی تیاری، کلاس روم میں باہمی رابطے، ہوم ورک، مطالعے اور خود سیکھنے سمیت مختلف سرگرمیاں شامل ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): لو شِن، جنرل منیجر مارکیٹنگ، بیجنگ فے شیانگ شِنگ چھِیو ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ
’’اساتذہ کو صرف اپنے تدریسی خیالات اور فیصلے فراہم کرنے ہوتے ہیں تاکہ وہ باہمی رابطے پر مبنی تعلیمی مواد تیار کر سکیں۔ اس باہمی رابطے سے طلبہ کے لئے سیکھنے کا عمل زیادہ جاندار اور آسان فہم ہو جاتا ہے۔
اس مصنوعی ذہانت والے ٹیبلٹ میں طلبہ ایک کلک کے ذریعے اے آئی کو فعال کرکے اس کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیبلٹ ہر طالبعلم کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک تعلیمی ساتھی فراہم کرتا ہے جو تقریباً اس طرح ہوتا ہے جیسے اس کے پاس ایک اور استاد موجود ہو۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): حسن، پاکستان سے آیا ہوا سیاح
’’میں چین کے سکولوں میں مصنوعی ذہانت کے بہت سے استعمالات دیکھ رہا ہوں۔ حتیٰ کہ میری بھانجی بھی ایسے ہی ایک سکول میں پڑھتی ہے۔ میں نے عموماً اس کے آئی پیڈ پر دیکھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو صرف ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کے بجائے تعلیمی مقاصد اور ہوم ورک کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے جو ایک بہت اچھی بات ہے۔ آپ اس سے بہت زیادہ مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ واقعی ایک بہت زبردست اقدام ہے۔‘‘

چین کے خدماتی تجارت کے بین الاقوامی میلے میں مصنوعی ذہانت صرف نمائش کے لئے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ مختلف شعبوں میں خدمات کو ازسرِنو تشکیل دینے والی ایک اہم قوت بن رہی ہے۔

دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے لئے چین کی وسیع منڈی، مصنوعی ذہانت کے استعمال کے متنوع مواقع اور خدمات کی تجارت کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی تعاون کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): میتھیاس بوئیر، نیشنل چیئر، ڈینش چیمبر آف کامرس اِن چائنہ
’’میرے خیال میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ہم مستقبل میں دیکھیں گے کہ یہ کاروباری کامیابی میں فرق واضح کرنے والا ایک اہم عنصر بن جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے مواقع بہت وسیع ہیں اور یہ روایتی شعبوں کو بھی بڑی حد تک آگے بڑھا رہی ہے۔
چین میں مواقع بہت زیادہ ہیں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ چین اب بھی دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بات کی جائے تو اس کی صلاحیت کا تعلق خاص طور پر ان بڑے اعداد و شمار سے ہے جو آپ فراہم کر سکتے ہیں۔ اس لئے اصل بات یہ ہے کہ چین میں چینی کمپنیوں کے ساتھ درست شراکت داری تلاش کی جائے۔
میرے خیال میں ہمیں آنے والے برسوں میں ان مواقع میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔‘‘

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں