ہومتازہ ترینایران جنگ کے باعث امریکہ کو ہتھیاروں کی قلت اور نقصانات کا...

ایران جنگ کے باعث امریکہ کو ہتھیاروں کی قلت اور نقصانات کا سامنا ہے، امریکی ادارے کا انکشاف

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی میڈیا کی متعدد رپورٹس کے مطابق ایک امریکی سرکاری نگران ادارے نے ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات پر اپنی پہلی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں جدید اسلحے کی کمی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی طیاروں، فوجی اڈوں اور سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔

پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی یہ رپورٹ یکم اپریل سے 30 جون تک کی ہے جس میں اس تنازع کے نتیجے میں ضائع ہونے والی امریکی جانوں، ٹیکس دہندگان کے پیسوں اور جسمانی نقصانات کا اب تک کا سب سے مکمل سرکاری حساب کتاب پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں تزویراتی ذخائر میں کمی واقع ہوئی اور جدید اسلحے کی فراہمی بحال کرنے کے لئے صنعتی بنیادوں پر رکاوٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا۔ اس کے علاوہ درجنوں امریکی طیارے اور ڈرون بھی تباہ ہو گئے یا انہیں نقصان پہنچا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جولائی کے آخر میں کانگریس کو بتایا تھا کہ اب تک اس جنگ پر 37.5 ارب امریکی ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے ایسے اعداد و شمار بھی دیئے گئے ہیں جو اس سے پہلے ظاہر نہیں کئے گئے۔

رپورٹ کے مطابق عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی سفارتی مشنز کو سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا جس کی لاگت کا تخمینہ 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں