ہومتازہ ترینبرکس گروپ گلوبل ساؤتھ ممالک کے درمیان تعاون کیلئے مضبوط کردار ...

برکس گروپ گلوبل ساؤتھ ممالک کے درمیان تعاون کیلئے مضبوط کردار ادا کر رہا ہے،اماراتی دانشور

دبئی (شِنہوا) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک دانشور نے کہا ہے کہ برکس گروپ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کے پلیٹ فارم کے طور پر اپنے کردار کو تیزی سے مضبوط بنا رہا ہے۔

یو اے ای یونیورسٹی کے کالج آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین محمد بن حویدین نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ برکس اب ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر تعاون کے لائحہ عمل میں تبدیل ہو چکا ہے اور برکس ممالک کے درمیان تعاون اب صرف تجارت اور سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ گروپ نے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی، توانائی، ماحولیات، مالی تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں تک اپنا دائرہ کار وسیع کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برکس کی ترقی خصوصاً "برکس پلس” تعاون کے طریقہ کار اور گروپ کے ایجنڈے کو وسعت دینے میں چین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے برکس کو ایک ایسے کثیرجہتی لائحہ عمل میں تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے جس کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کے ممالک تعاون کو وسعت دینے اور مہارت و وسائل کے تبادلے کے قابل ہوئے ہیں۔

بن حویدین نے کہا کہ برکس ترقی پذیر ممالک کو اپنے مفادات کا اظہار کرنے اور بین الاقوامی فیصلہ سازی میں زیادہ موثر انداز میں حصہ لینے کے لئے وسیع تر مواقع فراہم کرکے عالمی اداروں میں گلوبل ساؤتھ کی آواز کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برکس اختلافات یا کشیدگی کا سامنا کرنے والے ممالک کے درمیان مذاکرات کے لئے بھی راستے فراہم کر سکتا ہے جس سے باہمی اعتماد پیدا کرنے اور امن و استحکام کے امکانات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والا برکس سربراہی اجلاس بین الاقوامی منظرنامے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس کی کامیابی سے ایسا مشترکہ ایجنڈا آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جو رکن ممالک اور شراکت داروں کے مفادات کو پورا کرتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ برکس کے فراہم کردہ کثیرجہتی لائحہ عمل کے ذریعے یو اے ای اور چین کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ان کے مطابق چین کے پاس صنعتی شعبے میں نمایاں صلاحیتیں ہیں جبکہ یو اے ای نقل وحمل اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مضبوط صلاحیت رکھتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے وسیع امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برکس کا نظام دونوں ممالک کو دوطرفہ لائحہ عمل سے آگے بڑھ کر تعاون کو فروغ دینے اور گروپ کے وسیع تر پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانے کے اضافی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں