ہومتازہ ترینچین کی جدت طرازی کے ثمرات دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر...

چین کی جدت طرازی کے ثمرات دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں، سربراہ بی ایس ایچ

برلن (شِنہوا) بی ایس ایچ ہوم اپلائنسز گروپ کے سی ای او اور بورڈ کے چیئرمین میتھیاس میٹز نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جدت طرازی میں کردار مسلسل بڑھنے کے باعث چین میں تیار کردہ مزید مصنوعات اور ٹیکنالوجیز عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

میٹز نے 4 ستمبر کو شروع ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے کنزیومر الیکٹرانکس اور گھریلو آلات کے تجارتی میلوں میں سے ایک، پانچ روزہ آئی ایف اے برلن کے موقع پر شِنہوا کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ’’چین نہ صرف ایک اہم سیلز مارکیٹ ہے بلکہ عالمی جدت طرازی کو آگے بڑھانے والا انجن بھی ہے۔‘‘

میٹز نے کہا کہ چین کی تیزی سے ترقی کرتی صارف مارکیٹ جدت طرازی کی اس رفتار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ چینی صارفین نئی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپناتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں ان سے حاصل ہونے والے فوائد پر بھی بڑھتی ہوئی توجہ دیتے ہیں، جس سے نئی مصنوعات اور بہتر صارف تجربات کی مضبوط طلب پیدا ہو رہی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انہوں نے چین کی گھریلو آلات کی مارکیٹ میں گہری تبدیلی دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ

’’صارفین کی توجہ بنیادی فعالیت سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب وہ مصنوعات کی کارکردگی، سمارٹ خصوصیات، جگہ کے موثر استعمال، ڈیزائن اور استعمال میں آسانی کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ چین میں رہائشی مقامات، باورچی خانوں کے مختلف ڈیزائن اور کھانا پکانے کی عادات مختلف اور مخصوص ضروریات کو جنم دے رہی ہیں۔ میٹز نے کہا کہ یہ تبدیلیاں کمپنیوں کو زیادہ تیزی سے ردعمل دینے، مصنوعات کو زیادہ تیزی سے بہتر بنانے اور نئی تکنیکی حل تلاش کرنے پر آمادہ کر رہی ہیں۔

ان بدلتی ہوئی ضروریات کے جواب میں بی ایس ایچ نے چین میں اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو وسعت دی ہے۔ 2024 میں کمپنی نے چین کے مشرقی شہر نان جنگ میں واقع اپنے چائنہ آر اینڈ ڈی مرکز کو عالمی آر اینڈ ڈی مرکز میں اپ گریڈ کیا۔ اس کے بعد سے یہ دنیا بھر میں بی ایس ایچ کا سب سے بڑا جامع آر اینڈ ڈی مرکز بن گیا ہے، جہاں مصنوعات کی تیاری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

میٹز نے کہا کہ’’چین کی آر اینڈ ڈی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور مقامی صارفین کی ضروریات کے مطابق تیار ہونے والی جدت طرازیاں بتدریج ملک سے باہر دیگر منڈیوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔‘‘

ایک بچہ جرمنی کے شہر برلن میں آئی ایف اے برلن 2026 میں انسٹا 360 کے نمائشی علاقے میں ایف پی وی چشمہ پہن کر ایف پی وی ڈرون آزما رہا ہے۔ (شِنہوا)

اس سال آئی ایف اے میں بی ایس ایچ نے چین میں قائم اپنی آر اینڈ ڈی ٹیموں کی تیار کردہ دو جدید مصنوعات پیش کیں جو اب عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ان میں سے ایک دراز نما اسٹیم اوون ہے۔ میٹز نے بتایا کہ چینی گھرانوں کی باورچی خانے کی جگہ کے موثر استعمال کی ضرورت اور کھانا پکانے کے طریقے کے طور پر بھاپ میں پکانے کی ترجیح نے آر اینڈ ڈی ٹیم کو زیادہ کمپیکٹ اور لچکدار ڈیزائن تیار کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ ’’چینی طرز زندگی سے جڑا یہ ڈیزائن دیگر منڈیوں میں جگہ کے بہتر استعمال، تنصیب میں لچک اور موثر انداز میں کھانا پکانے کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ ’چین میں، چین کے لئے اور دنیا کے لئے‘ محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جسے ہم عملی جامہ پہناتے ہیں۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں