ہومتازہ ترینگلوبل ساؤتھ کا عروج عالمی طاقت کے ڈھانچے کو نئی شکل دے...

گلوبل ساؤتھ کا عروج عالمی طاقت کے ڈھانچے کو نئی شکل دے رہا ہے

جوہانسبرگ (شِنہوا)جنوبی افریقہ میں قائم تھنک ٹینک کرس ہانی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سیتھمبیسیو بھینگو نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ گلوبل ساؤتھ کا عروج عالمی طاقت کے ڈھانچے کو نئی شکل دے رہا ہے۔ یہ سب 2006 میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ایک معمولی گروپ کے طور پر شروع ہوا تھا، اس میں جنوبی افریقہ 2011 میں باضابطہ طور پر شامل ہوا، یہ اب چار براعظموں پر پھیلے ہوئے 11 ارکان کے گروپ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ شراکت دار ممالک کا ایک بڑھتا ہوا حلقہ بھی فعال طور پر تعاون میں شامل ہو رہا ہے۔

یہ بڑھتی ہوئی دلچسپی اپنی کہانی خود بیان کرتی ہے، مو جودہ دور کی تاریخ میں پہلی بار شمولیت کے خواہاں متعدد ممالک کسی مغرب کی قیادت والے کلب میں داخل ہونے کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ایسے ادارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں جو واضح طور پر اس اصول کے گرد قائم کیا گیا ہو کہ کسی ایک طاقت کو عالمی ترقی کی شرائط طے نہیں کرنی چاہئیں۔

افریقہ کے لیے یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے بلکہ کئی طریقوں سے یہ ایک واپسی ہے۔

اگرچہ جنوبی افریقہ برکس کے بانی ارکان میں شامل تھا، 2023 کی برکس سربراہی کانفرنس نے اس گروپ میں افریقی براعظم کے کردار میں گہرائی کی نشاندہی کی۔ مصر اور ایتھوپیا اب جنوبی افریقہ کے ساتھ مکمل ارکان ہیں، جس کے ساتھ افریقہ کے پاس ایک ایسے گروپ میں تین نشستیں ہیں جو مجموعی طور پر دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی پیداوار کے بڑھتے ہوئے حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

جنگ کے بعد کے عالمی نظام میں یہ ایک نایاب بات ہے کہ ایسا ادارہ موجود ہو جہاں افریقی ممالک صرف دوسرے ممالک کے کیے گئے فیصلوں میں درخواست گزار نہ ہوں، بلکہ خود قوانین بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ ایک ایسی شکایت کا ازالہ کرتا ہے جس نے 70 سال سے زائد عرصے سے افریقی ترقی کو تشکیل دیا ہے۔ جنگ کے بعد کے تصفیے سے وجود میں آنے والے بریٹن ووڈز ادارے اپنے ساتھ شرائط لے کر آئے، جنہوں نے کفایت شعاری، لبرلائزیشن اور سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام نافذ کیے، جس سے رسمی آزادی حاصل ہونے کے طویل عرصے بعد بھی زیادہ تر سب صحارا افریقہ قرضوں پر انحصار کے چکروں میں جکڑا رہا۔

برکس اور اس کا قائم کردہ نیو ڈیویلپمنٹ بینک ایک الگ ماڈل پیش کرتے ہیں ، یہ ایسی ترقیاتی مالی معاونت ہے جس کے ساتھ کوئی نظریاتی شرائط وابستہ نہ ہوں، اور یہ ایسی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری ہے جو خودمختاری کو سودے بازی کا عنصر سمجھنے کی بجائے بنیادی شرط قرار دیتی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں