ہومتازہ ترینچین کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے یکجہتی اور تعاون...

چین کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے یکجہتی اور تعاون کی تاکید

اقوام متحدہ (شِنہوا) چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے عالمی برادری سے یکجہتی اور تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ 25 سال قبل امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں نے عالمی سلامتی کے منظرنامے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اس کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ عالمی برادری کے لئے ایک مرکزی مسئلہ بن گئی ہے۔

سن لی نے 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی 25 ویں برسی کے موقع پر سلامتی کونسل کے دہشت گردی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور اس کی نئی شکلیں سامنے آ رہی ہیں جبکہ نئے چیلنج بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

سن لی نے کہا کہ ’’دہشت گردی علاقائی تنازعات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ دہشت گرد سرگرمیوں میں مرکزیت کے بجائے غیر مرکزی اور منتشر نوعیت نمایاں ہو رہی ہے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو دہشت گردانہ مقاصد کے لئے غلط استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں امتیازی پالیسیاں اور دوہرے معیارات اختیار کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس پس منظر میں عالمی برادری کو اتحاد اور تعاون مضبوط کرنا چاہیے، مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر قائم رہنا چاہیے، اقوام متحدہ کے مرکزی رابطہ کار کے کردار کو بھرپور طور پر بروئے کار لانا چاہیے اور انسانیت کے مشترکہ دشمن دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘

سن لی نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے اس کی ظاہری علامات کے ساتھ ساتھ بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

چینی مندوب نے کہا کہ پسماندگی، تعلیم کی کمی، تنازعات اور عدم استحکام دہشت گردی کو جنم دیتے ہیں۔ عالمی برادری کو متعلقہ ممالک کی معیشت، عوام کے روزگار و معاش، تعلیم اور ملازمتوں کے حوالے سے مدد کرنی چاہیے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ دہشت گردی اور غربت کے شیطانی چکر کو توڑا جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں