نیویارک (شِنہوا) چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کرنے کے لئے ایک مقامی فورم میں امریکی کاروباری، تعلیمی اور علمی شعبوں سے وابستہ 150 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی، جہاں سوشل میڈیا اور طلبہ کے تبادلوں سے لے کر فلائنگ ٹائیگرز کی یادوں تک ذاتی تجربات کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔
نیویارک میں چینی قونصلیٹ جنرل کی میزبانی میں منعقدہ اس فورم کا موضوع ’’ہماری مشترکہ توقعات: چین۔امریکہ تعلقات پر گفتگو‘‘ تھا، جس میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تبادلوں اور تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔
انگریزی کے استاد اور کانٹینٹ کریئیٹر اینڈریو کیپ نے چین میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم سے چینی ثقافت کو امریکی ناظرین تک پہنچانے والے آن لائن انفلوئنسر تک اپنے سفر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ کی نوجوان نسل چین میں موجود حقیقی لوگوں کو دیکھنا چاہتی ہے اور یہ سوشل میڈیا کے لئے ایک موقع ہے کہ آپ انہیں حقیقی اور مستند چین دکھا سکیں۔‘‘
سینو امریکن ایوی ایشن ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے نائب چیئرمین کلفورڈ لانگ جونیئر کے لئے چین سے تعلق ان کے والد کے دور میں قائم ہونے والے جنگی تعلقات تک جاتا ہے، جو فلائنگ ٹائیگرز کے رکن تھے۔
1941 میں قائم ہونے والی امریکی فضائی یونٹس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپانی جارحیت کے خلاف چینی افواج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی۔
لانگ نے کہا کہ ’’چینی عوام کے بغیر فلائنگ ٹائیگرز اپنا کام نہیں کر سکتے تھے۔‘‘
آج لانگ اس ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے میں مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ تاریخ بچوں تک منتقل کر رہے ہیں۔‘‘
گریٹر کولمبس چائنیز چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیٹ سلیوان نے چین کے اپنے دوروں کے تجربات کی بنیاد پر عوامی روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’جتنی مرتبہ میں چین کا سفر کرتی ہوں، میرے تجربے کا سب سے زیادہ اثر رکھنے والا حصہ چینی عوام کے ساتھ تعلق قائم کرنا رہا ہے۔‘‘
سلیوان نے دونوں ممالک کے درمیان تبادلوں کو وسعت دینے اور باہمی مفاہمت و اعتماد کو فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات پر زور دیا اور ایسے روابط کو باہمی مفاد پر مبنی تعاون اور کاروبار کے نئے مواقع کی بنیاد قرار دیا۔
نیویارک میں چینی قونصل جنرل چھن لی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایسے روابط کو دوطرفہ تعلقات کی بنیاد فراہم کرنے والی ایک گہری قوت قرار دیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز رونالڈ ساکولسکی کی کہانی سے کیا، جو ایک امریکی شہری تھے، انہوں نے کبھی چین میں انگریزی پڑھائی اور چینی کسان ین یو ژین کو ماؤ ووسو صحرا میں درخت لگانے میں مدد کی۔
چھن نے کہا کہ ’’چین اور امریکہ بہت سے طریقوں سے مختلف ہیں۔ لیکن قومیت، سیاسی نظام یا دیگر شناختوں سے پہلے ہم سب انسان ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام مستحکم اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی چاہتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کے لئے اچھی تعلیم اور اپنے خاندانوں کے لئے بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ممالک خوشحال ہوں اور دنیا میں امن برقرار رہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’چین۔امریکہ تعلقات کی جڑیں ہمارے عوام کے دلوں میں ہیں۔ جب جڑ گہری ہو تو ہمارے تعلقات کسی بھی طوفان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘


