جمعہ کی شام دی ہیگ کے ورلڈ فورم تھیٹر میں جب سرخ پردہ گرا تو اس وقت 1500 نشستوں والا آڈیٹوریم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ناظرین احتراماً کھڑے ہوگئے اور دیر تک تالیاں بجا کر داد دیتے رہے۔ تھیٹر تالیوں اور خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔
نیدرلینڈز میں شنگھائی بیلے کی واپسی کا آغاز شاندار انداز میں ہوا۔ کمپنی نے اس موقع پر بڑے پیمانے پر ’سوان لیک‘ پیش کیا۔ سال 2015 کے بعد نیدرلینڈز میں شنگھائی بیلے کا یہ پانچواں دورہ ہے۔
ناظرین اس پیشکش کے غیر معمولی حجم اور بے مثال مہارت سے بہت متاثر ہوئے۔ مشہور ’وائٹ ایکٹس‘ میں 48 رقاص ایک ساتھ ہنسوں کے روپ میں اسٹیج پر نمودار ہوئے جس سے سفید ٹوٹس، ہم آہنگ حرکات اور پیچیدہ رقصی تشکیلوں سے سجا اسٹیج سفید سمندر کا منظر پیش کرنے لگا۔ رقاصوں کی قطاریں پھیلتی اور سکڑتی رہیں، فنکار انتہائی درست انداز میں پھسلتے اور گھومتے رہے جبکہ درجنوں جسم ایک ہی وجود کی طرح حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
دی ہیگ سے تعلق رکھنے والی 81 سالہ تھییا نے کہا کہ ’’میں نے اس سے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ رقص شاندار ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں نے بچپن میں بیلے سیکھا تھا۔ اس لئے رقص کا ایک منظر مجھے خاص طور پر بہت پسند آیا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ کتنا مشکل ہے۔‘‘
9 سالہ روزا ہونگ اپنی والدہ کے ہمراہ یہ پرفارمنس دیکھنے آئی تھیں۔ وہ خاص طور پر بڑے پیمانے کی اس پیشکش سے بہت متاثر ہوئیں۔ اس نے کہا کہ وہ بڑے پیمانے پر پیش کئے جانے والے بیلے دیکھنا پسند کرتی ہیں۔
چار برس کی عمر میں بیلے سیکھنے والی روزا کا کہنا تھا کہ ’’یہ پہلی چینی بیلے کمپنی ہے جسے میں نے کبھی دیکھا ہے۔‘‘ اس نے کہا کہ ’’میں اس بات سے بہت متاثر ہوئی کہ ان کا رقص کتنا منظم اور پیشہ ورانہ ہے۔‘‘
دی ہیگ، نیدرلینڈز سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


