ہومتازہ ترینچین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تعاون کو مسلسل نئی رفتار فراہم...

چین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تعاون کو مسلسل نئی رفتار فراہم کی، نائب سیکرٹری جنرل ایس سی او

دوشنبے (شِنہوا) شنگھائی تعاون تنظیم کے نائب سیکرٹری جنرل احمد سعید مرودزادہ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بانی ارکان میں شامل چین نے تنظیم کے تعاون کے ایجنڈے کو مسلسل وسعت دی ہے اور اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

احمد سعید مرودزادہ نے شِنہوا کو ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ 2001 میں قائم ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم نے گزشتہ 25 برسوں کے دوران مسلسل اور مستحکم ترقی کی اپنی راہ پر گامزن رہتے ہوئے سفر طے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے بانی ارکان نے ابتدا سے ہی اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے چھ بانی ممالک کے رہنماؤں نے اپنے پہلے اعلامیے میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ مختلف شکلوں میں مذاکرات، روابط اور تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔

سعید مرودزادہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج 25 سال بعد یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے ابتدائی طور پر اعلان کردہ مقاصد سے کبھی نہیں ہٹی۔ انہوں نے کہا کہ رقبے، آبادی اور اقتصادی صلاحیت کے لحاظ سے شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی سب سے بڑی بین العلاقائی تنظیم بن چکی ہے۔

چین کے شمالی شہر تیانجن میں واقع تیانجن ماڈرن ووکیشنل ٹیکنالوجی کالج کی لوبان ورکشاپ میں ایک استاد طالب علم کو مشین چلانے کے طریقہ کار سے متعلق ہدایات دے رہا ہے۔(شِنہوا)

بانی رکن کی حیثیت سے چین کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سعید مرودزادہ نے کہا کہ چین نے تنظیم کی ترقی میں مسلسل اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت کے ہر دور میں چین نے اہم خدمات انجام دی ہیں، علاقائی سلامتی، تجارتی و اقتصادی امور کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے میں مدد دی ہے جبکہ علاقائی اور عالمی امور میں شنگھائی تعاون تنظیم کے کردار اور اثر و رسوخ کو بھی بڑھایا ہے۔

سعید مرودزادہ نے 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک چین کی صدارت میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن سربراہی اجلاس کو خصوصی اہمیت دی۔

انہوں نے کہا اس سربراہی اجلاس نے واقعی تنظیم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں