ہومتازہ ترینآسٹریلوی صارفین کا چینی گاڑیوں پر اعتماد بڑھ رہا ہے، سربراہ آٹو...

آسٹریلوی صارفین کا چینی گاڑیوں پر اعتماد بڑھ رہا ہے، سربراہ آٹو انڈسٹری ادارہ

سڈنی (شِنہوا) آسٹریلیا کی کارساز صنعت کے اعلیٰ ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ چینی کار ساز کمپنیاں، خاص طور پر نئی توانائی کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں آسٹریلیا کی انتہائی مسابقتی منڈی میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے آسٹریلوی صارفین کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔

فیڈرل چیمبر آف آٹو موٹو انڈسٹریز (ایف سی اے آئی) کے چیف ایگزیکٹو ٹونی ویبر نے کینبرا میں شِنہوا کو ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ کم اخراج والی الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی ایک ناگزیر رجحان ہے جبکہ آسٹریلیا میں چینی آٹو موبائل برانڈز کی تیز رفتار ترقی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ مسابقتی مصنوعات اور خدمات کے ذریعے صارفین کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایف سی اے آئی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال آسٹریلیا میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ چینی ساختہ گاڑیوں نے نئی گاڑیوں کی منڈی میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ چین فروری میں پہلی مرتبہ ایک ہی ماہ کے دوران آسٹریلیا کو نئی گاڑیاں فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔

ویبر نے کہا کہ چینی گاڑی ساز کمپنیاں اپنے ڈیلر نیٹ ورک کو مسلسل وسعت دے کر اور صارفین کو درکار بعد از فروخت خدمات فراہم کرکے آسٹریلوی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہی ہیں جس سے آسٹریلوی شہریوں کا ان کی مصنوعات پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔

ویبر نے کہا کہ اگر اس اعتماد کی کوئی بنیاد نہ ہو تو آسٹریلوی صارفین گاڑیاں نہیں خریدیں گے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ آسٹریلوی صارفین پہلے ہی چینی مصنوعات خرید رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو گاڑی کو بہتر سہولت فراہم کرنی ہوتی ہے، جدت لانا ہوتی ہے اور یہی چینی کار ساز کمپنیاں کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا ایک بہت وسیع اور انتہائی مسابقتی منڈی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں تمام رپورٹنگ ذرائع سے بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں (بی ای ویز) کی فروخت 23ہزار 510 یونٹس رہی جو مجموعی منڈی کا 21.7 فیصد ہے۔ یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب بی ای ویز کی فروخت تمام گاڑیوں کی فروخت کے پانچویں حصے سے زیادہ رہی۔ ہائبرڈ گاڑیوں کو بھی شامل کیا جائے تو جولائی میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کا آسٹریلیا کی نئی گاڑیوں کی منڈی میں حصہ 48.4 فیصد رہا۔

ویبر نے کہا کہ وہ آسٹریلوی منڈی میں الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل کے بارے میں بہت پراعتماد ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی بھی انتہائی اہم ہے۔

ایف سی اے آئی کے سربراہ نے بتایا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیے کے مطابق آسٹریلیا میں عوام کے لئے چارجنگ سٹیشنز کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد دنیا میں بلند ترین سطح میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تبدیلی تیزی سے ہونی چاہیے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ چین کے پاس چارجنگ انفراسٹرکچر کا ایک پختہ صنعتی سلسلہ موجود ہے، کیا چین کو آسٹریلیا میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے تو ویبر نے کہا کہ ہم ایک بہت وسیع معیشت ہیں۔ جب کسی ملک کو تجارتی یا تکنیکی برتری حاصل ہو تو ہم یقیناً اس ملک اور اس کے فراہم کنندگان کی آسٹریلوی منڈی میں آنے اور انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔

ویبر نے بتایا کہ وہ چین کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے آٹو موبائل صنعت کے تحقیق و ترقی کے شعبے، پیداواری مراکز اور شنگھائی موٹر شو کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کی آٹو موبائل صنعت اور مجموعی طور پر ملک کی ترقی سے بہت متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں چین جاتا ہوں اور آٹو موبائل صنعت کو دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا کی آٹو موبائل صنعت کا مستقبل نظر آتا ہے۔ وسیع تر تناظر میں چین کو دیکھوں تو مجھے ایک انتہائی ترقی یافتہ، جدید اور بہتر انداز میں کام کرنے والا معاشرہ نظر آتا ہے۔ یہ جدید دنیا کا حصہ ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں