نوم پنہ (شِنہوا) ماہرین نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی سٹریٹجک مسابقت اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کا متحد رہنا ضروری ہے۔
کمبوڈیا کی کونسل آف منسٹرز کے سیکرٹری آف اسٹیٹ اینگ کوک تھائی نے کہا کہ عالمی معیشت اب صرف مارکیٹ کی قوتوں سے نہیں چل رہی بلکہ جغرافیائی سیاست، سٹریٹجک مسابقت، ٹیکنالوجی کی دوڑ اور قومی سلامتی کے تقاضے بھی اسے متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1997 کا ایشیائی مالیاتی بحران، 2008 کا عالمی مالیاتی بحران اور کووڈ-19 کی وبا جیسے گزشتہ معاشی بحران زیادہ تر مالی نوعیت کے تھے، لیکن آج کی صورتحال بنیادی طور پر مختلف ہے۔
نوم پنہ فورم کے پانچویں اجلاس میں تقریباً 100 مقامی و غیر ملکی پالیسی سازوں، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور دیگر ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’معیشت جغرافیائی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ تجارتی پابندیاں، ٹیکنالوجی پر کنٹرول، صنعتی پالیسیاں، اقتصادی پابندیاں، ٹیرف، سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال، اہم معدنیات کے حصول کی دوڑ، توانائی کا تحفظ اور سپلائی چین میں تنوع اب سٹریٹجک مسابقت کے ذرائع بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 69 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ آسیان دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے اقتصادی خطوں میں سے ایک ہے اور اسے اہم سٹریٹجک مقام حاصل ہے۔
کوک تھائی نے کہا کہ ’’یہ سٹریٹجک مقام آسیان کو میدان جنگ کے بجائے ایک پل بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ فریقین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے بجائے آسیان ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جہاں دیگر مقامات پر مسابقت کے باوجود تعاون جاری رہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے آسیان کو باہمی تعاون مزید مضبوط کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آن لائن فراڈ، مالی جرائم، انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی مالی منتقلی کے خلاف مشترکہ اقدامات ضروری ہیں، بجائے اس کے کہ ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں یا اندرونی سیاست کو علاقائی اعتماد متاثر کرنے دیں۔
رائل اکیڈمی آف کمبوڈیا کے صدر سوک ٹچ نے کہا کہ ہر رکن ملک کو مختلف بیرونی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا حق اور ضرورت ہے، تاہم اجتماعی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی شراکت دار کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے پہلے ہمیں اس کے آسیان کے اتحاد پر اثرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ رکن ممالک کے بیرونی تعلقات کو آسیان کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کی رقابت کو ہمارے مشترکہ گھر میں لانا چاہیے۔‘‘
میانمار انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ایگزیکٹو رکن یو ہتین لین نے خبردار کیا کہ آسیان کے اتحاد پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کے بعض بنیادی اصول، خصوصاً عدم مداخلت، مشاورت و اتفاق رائے اور خاموش سفارت کاری آج کے پیچیدہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موثر عملی طریقہ کار میں مناسب طور پر تبدیل نہیں ہو سکے۔


