اسلام آباد (لارڈ میڈیا) وفاقی حکومت کے مانع حمل اشیا کے منصوبے میں اہم خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کے اجلاس میں بتایا گیا کہ مانع حمل اشیا کی مقدار کے تعین کے لیے پی سی ون بروقت اور سائنسی بنیادوں پر تیار نہیں کیا گیا۔
منگل کو سینیٹر قرة العین مری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں وزارت صحت کے حکام نے کمیٹی کو منصوبے کی بریفنگ دی۔ بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ پی سی ون 2019 میں تیار ہوا تھا لیکن اس کی منظوری 2021 میں دی گئی۔
وزارت صحت حکام نے بتایا کہ منصوبے کے لیے ضروری پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ موجود نہیں تھا اور نہ ہی مانع حمل اشیا کے استعمال کے فروغ کے لیے آگاہی مہم کا جزو شامل تھا۔ منصوبے میں مانیٹرنگ اور نگرانی کا اہم جزو بھی شامل نہیں کیا گیا۔
منصوبے میں موجود خامیوں کے باعث پی سی ون پر نظرثانی جاری ہے اور قومی آبادی پالیسی 2025-35 کے مطابق ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور صوبوں سے مشاورت بھی جاری ہے۔
جامع میڈیا مہم کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں ٹی وی چینلز کے لیے 59.48 فیصد، اخبارات کے لیے 14.45 فیصد، ایف ایم ریڈیوز کے لیے 6.1 فیصد اور سوشل میڈیا کے لیے 19.97 فیصد شامل ہیں۔
اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے حکام کی عدم شرکت پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرة العین مری نے کہا کہ اگر وزارتی حکام آئندہ اجلاس میں نہ آئے تو تحریک استحقاق لائیں گے۔


