ہومتازہ ترینیانگون ثقافتی گالا میں فن،دستکاری اور ثقافتی مکالمے نے چین اور میانمار...

یانگون ثقافتی گالا میں فن،دستکاری اور ثقافتی مکالمے نے چین اور میانمار کے عوام کو قریب کر دیا

رنگ برنگے نسلی ملبوسات پہنے فنکاروں نے جب اسٹیج پر آ کر روایتی گیت پیش کئے تو ان کی گونج پوری تقریب میں سنائی دی جبکہ شرکا چین اور میانمار کی روایتی دستکاریوں، کپڑوں اور ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات سے سجے نمائشی اسٹالز کا جائزہ لیتے رہے۔

’چین میانمار ثقافتی تبادلہ ہفتہ 2026 ‘ میں اس پُررونق ماحول نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے جذبے کی عکاسی کی۔ منگل کے روز یانگون میں چین میانمار جڑواں شہروں کے میڈیا فورم کے انعقاد کےساتھ ہی ثقافتی تبادلہ ہفتہ کا بھی افتتاح کیا گیا تھا۔

ثقافتی پرفارمنس، نمائشوں اور مکالموں کے ذریعے شرکا نے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے میں عوامی سطح پر تبادلوں کے کردار کو اجاگر کیا۔

ثقافتی فن کا مظاہرہ کرنے والوں میں میانمار ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ما ای ای فیو بھی شامل تھیں جنہوں نے میانمار کے روایتی گیت اور رقص پیش کرنے کے اس ایونٹ میں اپنے گروپ کے ہمراہ حصہ لیا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (برمی): ما ای ای فیو، فنکارہ، میانمار ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن
’’مجھے اس طرح کی تقریب میں پرفارم کرنے کا موقع ملنے پر بے حد خوشی ہے۔ میانمار کی ایک شہری ہونے کے ناطے مجھے اس پر دلی فخر بھی محسوس ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات مسلسل مضبوط ہوں گے، ہماری دوستی پہلے سے زیادہ گہری ہو گی اور دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ ترقی کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مثبت اور دیرپا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
ثقافت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہر ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ باعثِ فخر ہوتا ہے۔ جس طرح میانمار نے اپنی ثقافت کو محفوظ رکھا ہے اور چین اپنی ثقافت کا تحفظ کرتا ہے، اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے ہمارے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک کے وقار اور مقام و مرتبہ میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔‘‘

ثقافتی بازار میں روایتی دستکاری پیش کرنے والے متعدد نمائش کنندگان نے بھی شرکت کی۔ ان میں ایک نمائش کنندہ ’رائل گولڈن ٹورٹوئز میانمار ہینڈی کرافٹ لیکوئرویئر‘ بھی شامل تھا جس نے تقریباً 50 دستکاری کی مصنوعات نمائش کے لئے پیش کیں۔

ادارے کے مالک یو ٹِن زا خائنگ نے اس نمائش کو میانمار اور چین کے صوبہ یوننان کے درمیان قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (برمی): یو ٹِن زا خائنگ، مالک، رائل گولڈن ٹورٹوئز میانمار ہینڈی کرافٹ لیکر ویئر
’’لوگوں اور ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے ہر حال میں ایک نہایت خوبصورت عمل ہیں۔ اس طرح کی تقریبات واقعی بہت بامعنی ہوتی ہیں۔ اگر ایسی تقریبات وقتاً فوقتاً باقاعدگی سے منعقد کی جاتی رہیں تو ہم جیسے کاروباری افراد کے لئے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔‘‘

ثقافتی سرگرمیوں کے علاوہ شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا اداروں کے درمیان تبادلے بھی باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

میانمار پریس کونسل کے چیئرمین یو ٹِن ٹُن او نے کہا کہ میڈیا اداروں کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں تو ہمارے درمیان دوستی اور اعتماد قائم ہوتا ہے۔ پھر اعتماد کی بنیاد پر ہم مل کر کام کر سکتے ہیں اور باہمی فائدے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

یانگون، میانمار سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں