نئی دہلی (لارڈ میڈیا): انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران بھارت نے اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی پرزے فراہم کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ قریبی شراکت داری ہے اور وہ ان سپلائی چینز کا حصہ ہے جو اسرائیلی دفاعی صنعت کو سامان فراہم کرتی ہیں۔
ایمنسٹی کے تحقیق کاروں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی گئی 2,596 تجارتی شپمنٹس کا تجزیہ کیا جن میں ہتھیار اور دفاعی سامان شامل تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی کمپنیوں نے چھوٹے ہتھیاروں کے لاکھوں پرزے، دھماکہ خیز ہتھیاروں کے پرزے اور فوجی گاڑیوں کے پرزے اسرائیلی سپلائرز کو دیے۔
ایمنسٹی کے مطابق تجارتی شپمنٹ کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سامان اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو بھیجا گیا جو بعد میں اسرائیلی فوج تک پہنچایا گیا۔ تنظیم کی سیکرٹری جنرل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات فوری طور پر بند کرے۔
رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوؤں پر بھارتی حکومت یا اسرائیلی حکام کا کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اعداد و شمار اور الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔


