دبئی (لارڈ میڈیا): ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ملٹی وٹامنز اور دواؤں کو بلا ہدایت ایک ساتھ استعمال کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحیح وٹامن صحیح وقت پر نہ لینے سے یہ دواؤں کے اثر کو ختم کر سکتی ہیں یا دیگر بیماریاں پیدا کر سکتی ہیں۔
آر اے کے ہسپتال کی انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ ڈاکٹر جسپریت کور نے کہا کہ وٹامنز بھی دواؤں کی طرح طاقتور ہوتی ہیں اور بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے ان کا استعمال اصل بیماری کو چھپا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ساتھ دوائیاں اور وٹامنز لینے سے جسم کی غذائیت جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئرن اور کیلشیم کی گولیاں ایک ساتھ کھانے سے آئرن صحیح طریقے سے جسم میں جذب نہیں ہوتا، جس سے خون کی کمی کا علاج متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح، تھائیرائیڈ کی دوا لیوو تھائروکسین اور آئرن کا ایک ساتھ استعمال تھائیرائیڈ کی بیماری پر قابو پانے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹروں نے وٹامن کے اور خون پتلا کرنے والی دوا وارفرین کے امتزاج پر بھی خبردار کیا ہے، کیونکہ اس سے خون کے لوتھڑے بننے یا خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ وٹامن ای کا زیادہ استعمال بھی خون پتلا کرنے والی ادویات کے ساتھ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے زنک اور کاپر جیسے معدنیات کے توازن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ زنک کی زیادتی جسم میں کاپر کی کمی پیدا کر سکتی ہے، جس سے طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ جیمی رچرڈز نے کہا کہ وٹامنز کی زیادتی جسم کے دیگر وٹامنز کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ خود سے مختلف دوائیاں اور وٹامنز ملا کر کھانے کے بجائے ڈاکٹر کی مشاورت سے صرف ضروری وٹامنز لیں، کیونکہ صحت مند رہنے کے لیے درست اور متوازن استعمال ضروری ہے۔


