ہومتازہ ترینچین کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے انڈونیشیا کا عزم...

چین کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری کے لیے انڈونیشیا کا عزم مضبوط ہے، وزیر سرمایہ کاری

جکارتہ (شِنہوا) انڈونیشیا کے وزیر سرمایہ کاری و ثانوی صنعتیں روزان روسلانی نے شِنہوا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ انڈونیشیا چینی کمپنیوں کو نہ صرف ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے بلکہ انڈونیشیا کے ساتھ مل کر تعمِیر کی ترغیب بھی دیتا ہے تاکہ مضبوط ترسیل کا نظام قائم کرنے، صلاحیتوں کو نکھارنے اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے سمیت یہاں سے علاقائی و عالمی منڈیوں کو خدمات فراہم کی جا سکیں۔
روزان نے کہا کہ مواقع انتہائی وسیع، سمت واضح ہے اور طویل المدتی شراکت داری کے لیے ہمارا عزم بھی مضبوط ہے۔ چین ایک بنیادی اور کلیدی شراکت دار ہے اور ہم خود کو مستحکم رکھنے کے لیے اپنے تعلقات کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔
وزیر کا کہنا تھا کہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے طور پر انڈونیشیا صنعتی ترقی کی رفتار تیز کر رہا ہے اور معاشی نمو کے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے جس میں چین اہم ترین تذویراتی محرکات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین مسلسل13 سال سے انڈونیشیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے سرفہرست تین ممالک میں شامل رہا ہے۔
روزان کے مطابق دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات خام مال کی تجارت سے آگے بڑھ کر معدنیات کی تکمیلی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹری کے ترسیلی نظام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں حقیقی صنعتی انضمام میں ڈھل چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا باہمی تعاون خطے میں ترسیلی نظام کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جیسے جیسے عالمی کمپنیاں پیداوار اور ذرائع کو متنوع بنا رہی ہیں، انڈونیشیا اور چین کے پاس جدید پیداوار، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مستقبل کی صنعتوں میں زیادہ متوازن اور ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری قائم کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
روزان نے بتایا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت ’’دو ممالک، جڑواں پارکس‘‘ کا منصوبہ محض ایک تصور کے بجائے مضبوطی کے ساتھ عملی شکل اختیار کر رہا ہے کیونکہ یہ الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط صنعتی ایکو سسٹم تخلیق کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، پیداوار، نقل و حمل، مہارتوں کی ترقی اور مارکیٹ تک رسائی کو جوڑتا ہے جس سے ہر قسم کی کمپنیوں کے لیے علاقائی ویلیو چینز میں حصہ لینا آسان ہو جاتا ہے۔
روزان نے چینی سرمایہ کاروں کو انڈونیشیا کی ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے خوش آمدید کہا اور بتایا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کے بنیادی ڈھانچے، جدید الیکٹرانکس اور بجلی کی مستحکم فراہمی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ انڈونیشیا اس تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے مکمل طور پر بہترین حالت میں ہے کیونکہ اس کے پاس ایک وسیع جدید منڈی، قابل تجدید توانائی کے وافر وسائل، مسابقتی صنعتی زونز اور آسیان کے قلب میں اہم تذویراتی محل وقوع موجود ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں