ہومتازہ ترینقانون میں کم عمری کی شادی کے خلاف سزا کا ذکر ہے...

قانون میں کم عمری کی شادی کے خلاف سزا کا ذکر ہے نکاح کی منسوخی کا نہیں، آئینی عدالت

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی آئینی عدالت میں ماریہ شہباز کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں کیا غلطی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا جبکہ ماریہ کو ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ شادی کے لئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے اور قانون کی خلاف ورزی پر شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قانون میں کم عمری کی شادی کے خلاف سزا کا ذکر ہے، نکاح کی منسوخی کا نہیں۔ بچی نے کہیں نہیں کہا کہ اس کے ساتھ زبردستی ہوئی۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی اور کہا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کے لئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں