راولپنڈی (لارڈ میڈیا): راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں بارش کے باعث وادی نیلم اور مانسہرہ کے علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ ہوا، جس کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آنے سے مکانات، دکانیں، ہوٹل اور دیگر املاک متاثر ہوئیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 23 جولائی تک مشرقی اور مغربی دریاؤں و ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ شدید مون سون اور مغربی ہوا کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں شدید بارشوں کا باعث بنے گا۔
اتھارٹی نے عوام کو آفیشل چینلز کے ذریعے باخبر رہنے کی ہدایت کی ہے اور این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کی تاکید کی ہے تاکہ حقیقی وقت میں الرٹس، ابتدائی وارننگز اور حفاظتی ہدایات حاصل کی جا سکیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی بالائی پنجاب میں فلیش سیلاب اور ہل ٹورنٹس میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ دریائے چناب اور دریائے جہلم میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، اور مختلف مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔


