ہومتازہ ترینیونی ٹری کی آئی پی او سے چین میں تیزی سے فروغ...

یونی ٹری کی آئی پی او سے چین میں تیزی سے فروغ پاتا انسان نما روبوٹ کا شعبہ توجہ کا مرکز

شنگھائی (شِنہوا) چینی روبوٹ ساز کمپنی یونی ٹری روبوٹکس نے پیر کے روز شنگھائی سٹاک ایکسچینج کے سٹار مارکیٹ پر اپنی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے لئے رکنیت کی درخواستیں وصول کرنا شروع کر دیں، جس کے باعث چین کی تیزی سے ترقی کرتی انسان نما روبوٹس کی صنعت کی ایک نمایاں کمپنی کیپٹل مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

ہانگ ژو میں قائم یہ کمپنی 150.80 یوآن (تقریباً 22 امریکی ڈالر) فی حصص کے حساب سے تقریباً 4 کروڑ 4 لاکھ 50 ہزار شیئرز پیش کر رہی ہے، جو پیشکش کے بعد کمپنی کے مجموعی حصص کا 10 فیصد ہیں۔ توقع ہے کہ اس پیشکش سے مجموعی طور پر تقریباً 6 ارب 10 کروڑ یوآن حاصل ہوں گے۔

ابتدائی قیمت کے تعین کے مرحلے میں اس پیشکش میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ جاری اعلامیے کے مطابق غیر معتبر بولیوں اور اعلیٰ ترین قیمت والی مجوزہ سبسکرپشنز کو منہا کرنے کے بعد سٹریٹجک پلیسمنٹ کی ایڈجسٹمنٹ سے قبل باقی ماندہ آف لائن سبسکرپشنز کا حجم 71.46 ارب شیئرز رہا جو ابتدائی آف لائن پیشکش کے حجم سے 2760.67 گنا زیادہ ہے۔

2016 میں غیر عسکری روبوٹکس کمپنی کے طور پر قیام کے بعد یونی ٹری نے روبوٹ کے بنیادی پرزوں، موشن کنٹرول، روبوٹ سینسنگ اور دیگر ہمہ جہت شعبوں میں اعلیٰ مقام حاصل کیا اور تمام تر توجہ اعلیٰ کارکردگی کے حامل عام مقاصد کے انسان نما اور چار ٹانگوں والے روبوٹس، پرزوں اور مجسم انٹیلی جنس ماڈلز پر مرکوز رکھی۔

کمپنی کی تعارفی دستاویز کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران یونی ٹری نے چار ٹانگوں والے 33 ہزار 294 روبوٹس اور 5 ہزار 632 انسان نما روبوٹس فروخت کئے۔ پہیے دار دو بازوؤں والے روبوٹس کو منہا کر کے صرف 2025 میں اس کے انسان نما روبوٹس کی ترسیل 5 ہزار 500 یونٹس سے تجاوز کر گئی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں