ہومتازہ ترینعالمی اقتصادی فورم کے مضمون میں چین کی "مارکیٹ سے کم شرح"...

عالمی اقتصادی فورم کے مضمون میں چین کی "مارکیٹ سے کم شرح” پر مالی معاونت کے جائزوں میں خامیوں کی نشاندہی

جنیوا (شِنہوا) عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی ویب سائٹ پر حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ بعض بین الاقوامی تحقیقی ادارے بظاہر چین کے تجارتی بینکوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت کو غلط طور پر سبسڈی قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ ایسے معیارات پر انحصار کرتے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے نتیجے میں گمراہ کن نتائج سامنے آتے ہیں۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) سمیت بعض بین الاقوامی اداروں کی جانب سے حال ہی میں شائع ہونے والی صنعتی پالیسی سے متعلق رپورٹس میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چین کے تجارتی بینک چینی کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر "مارکیٹ سے کم شرح” پر مالی معاونت فراہم کرتے ہیں اور اسے چین میں وسیع پیمانے پر صنعتی سبسڈی کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ یہ مضمون چائنہ ماڈرن فنانس سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل یانگ حہ اور تین دیگر ماہرین نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔

تاہم مصنفین کا کہنا ہے کہ ان مطالعات میں اکثر ایسے "مارکیٹ بینچ مارکس” منتخب کئے جاتے ہیں جو چین کے مالیاتی نظام، تجارتی قرضہ جاتی طریقہ کار اور زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں ان مصنوعی معیارات سے کم شرح پر حاصل کئے گئے قرضوں کو خودکار طور پر سبسڈی تصور کر لیا جاتا ہے۔

مضمون میں مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین کی لون پرائم ریٹ (ایل پی آر) کو خطرے سے پاک معیار کے مساوی قرار دینا اس غلط مفروضے کو جنم دیتا ہے کہ ایل پی آر سے کم شرح پر دیا جانے والا ہر قرض لازماً مارکیٹ سے کم شرح پر فراہم کیا گیا ہے۔ حقیقت میں ایل پی آر صرف قرضوں کی قیمت کے تعین کے لئے ایک حوالہ جاتی شرح ہے، جبکہ تجارتی بینک قرض لینے والے کی مالی حیثیت، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت اور فراہم کردہ ضمانت کی بنیاد پر مختلف شرحیں مقرر کرتے ہیں۔ اس لئے ایل پی آر سے کم شرح پر قرض ملنے کا زیادہ امکان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قرض لینے والے کا مالی خطرہ کم ہے یا اس نے مضبوط ضمانت فراہم کی ہے، نہ کہ اسے کسی ترجیحی حکومتی پالیسی کے تحت رعایت دی گئی ہے۔

مصنفین نے مزید کہا کہ اگر او ای سی ڈی کے طریقہ کار کو امریکی کارپوریٹ بانڈ جاری کرنے والی کمپنیوں کے ایک نمونے پر بھی لاگو کیا جائے تو وہاں بھی بڑی تعداد میں "مارکیٹ سے کم شرح” پر مالی معاونت کے نتائج سامنے آتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مالی معاونت کو سبسڈی قرار دینے یا نہ دینے کے نتیجے پر بنیادی طور پر منتخب کردہ بینچ مارک ہی اثر انداز ہوتا ہے۔

مضمون میں چین کی مالیاتی منڈی اور کارپوریٹ شعبے کی حقیقی صورتحال کے مطابق ایک زیادہ موزوں مارکیٹ بینچ مارک ترتیب دینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نمونے میں شامل کمپنیوں کی اوسط مالی لاگت درحقیقت اس مارکیٹ بینچ مارک سے 0.2 فیصد پوائنٹ زیادہ تھی۔ مزید یہ کہ چین کے بڑے تجارتی بینکوں کی منفعت بخشی امریکہ، یورپ اور جاپان کے بڑے بینکوں کے برابر، بلکہ بعض صورتوں میں ان سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ "مارکیٹ سے کم شرح” پر مالی معاونت فراہم کرنے کے لئے منافع کو منظم انداز میں قربان نہیں کیا جا رہا۔

مصنفین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر سبسڈی کے جائزوں کو زیادہ درست، قابل اعتماد اور منصفانہ بنانے کے لئے زیادہ معقول اور مناسب مارکیٹ بینچ مارکس اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں