لندن (لارڈ میڈیا): برطانوی حکومت نے بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث گروہ کے سزا یافتہ سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری کے لیے امیگریشن قانون میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔ شبیر احمد کو 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور زیادتی کے جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ حال ہی میں برطانیہ کے قبل از وقت رہائی پروگرام کے تحت جیل سے رہا ہوا ہے اور سخت نگرانی میں ہے۔
شبیر احمد برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت کا حامل تھا، تاہم ایک پرانا امیگریشن قانون اسے ملک بدر کرنے میں رکاوٹ ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ حکومت امیگریشن اینڈ اسائلم بل کے ذریعے 1971 کے امیگریشن ایکٹ کی شق 7 میں تبدیلی کرے گی جس سے کامن ویلتھ ممالک کے شہریوں کے تحفظ میں تبدیلی آئے گی۔
وزارت داخلہ نے بتایا کہ مجرم کو ملک بدر کرنے کے لیے متعلقہ ممالک کی رضامندی بھی ضروری ہے۔ شبیر احمد نے اپنی زندگی کے پہلے 14 سال پاکستان میں گزارے ہیں، اس لیے پاکستان کو اسے قبول کرنا چاہیے۔ شبیر احمد کا دعویٰ ہے کہ اس نے 2012 میں پاکستانی شہریت ترک کر دی تھی۔
برطانوی حکام کے مطابق، اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔ روچڈیل اور اولڈہم میں جنسی استحصال کے اسکینڈل میں 100 سے زائد افراد سزا پا چکے ہیں۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے قومی سطح پر تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور یہ کیس عالمی سطح پر توجہ حاصل کر چکا ہے۔


