ہومانٹرنیشنلفضائی آلودگی سے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ، نئی تحقیق میں...

فضائی آلودگی سے مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ، نئی تحقیق میں انکشاف

شہر (لارڈ میڈیا): مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی ایک اہم وجہ فضائی آلودگی کو قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ایک حالیہ امریکی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے۔ میساچوسٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی مردوں کے جینز پر منفی اثر ڈالتی ہے، جس سے صحت مند اسپرمز کی تشکیل متاثر ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی سے متاثرہ مردوں کے ڈی این اے میں کیمیائی تبدیلیاں آتی ہیں، جو جینز کے افعال کو معطل کر دیتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 17.5 فیصد بالغ آبادی کسی نہ کسی وقت بانجھ پن کا سامنا کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار 1990 سے 2021 تک کی 100 سے زائد تحقیقی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ امیر ممالک میں یہ شرح 17.8 فیصد جبکہ متوسط اور غریب ممالک میں 16.5 فیصد ہے۔

تحقیق میں 2 ہزار سے زائد مردوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں پایا گیا کہ اوزون، نائٹروجن ڈی آکسائیڈ اور سلفر ڈی آکسائیڈ جیسے ذرات کے باعث ڈی این اے میں 39 تبدیلیاں ہوئیں، جو بانجھ پن کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

پہلے بھی برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں فضائی آلودگی کے اثرات کو بانجھ پن کے خطرے سے جوڑا گیا تھا۔ اس تحقیق میں ٹریفک کے شور کو 35 سال سے زائد عمر کی خواتین میں بانجھ پن کا سبب بتایا گیا تھا۔ محققین کے مطابق مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ فضائی آلودگی اور بانجھ پن کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں