کراچی (لارڈ میڈیا): کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے میں گرفتار افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ اس کے بیانات سے جماعت الاحرار اور افغانستان میں موجود نیٹ ورک کے تعلقات کے شواہد ملے ہیں۔
عثمان نامی دہشتگرد نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان جلال آباد سے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ آنے والے دہشتگردوں میں سے جانان نے بم پھینکا جبکہ عبدالہادی حملے کے دوران مارا گیا۔
تفتیش کے دوران عثمان نے بتایا کہ وہ سات دن پہلے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ عبدالہادی، جو باجوڑ کا رہائشی تھا، نے وزیرستان سے اسلحہ لایا اور حملے کے لیے ایک زیر تعمیر عمارت میں چھپے رہے۔
حملے میں رینجرز کے تین اہلکار شہید اور چار زخمی ہوئے جبکہ تین دہشتگرد مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ حملے کے فوراً بعد پاک افغان سرحد پر انٹیلی جینس آپریشن میں 29 کارندے مارے گئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ باجوڑ میں آپریشن کے دوران جماعت الاحرار کا خارجی کمانڈر اور اس کے تین ساتھی ہلاک ہوئے۔ سرحد پار افغان صوبوں میں بھی کارروائی کی گئی جہاں مزید 25 دہشتگرد مارے گئے۔


