اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان میں موسمی تبدیلیوں کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف شدید گرمی نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف اچانک بارشوں نے سیلاب کی صورت میں تباہی مچا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال انسان کی ماحول میں مداخلت کا نتیجہ ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے قحط اور لو چلنے کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ پاکستان میں بھی 2025 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2026 میں بھی گرمی کی شدت سے ریلیف کی امید نہیں ہے۔
ایل نینو اور لا نینا کے اثرات پاکستان پر بھی واضح ہیں۔ ایل نینو کے دوران سمندر کا پانی گرم ہونے سے مون سون ہوائیں کمزور پڑ جاتی ہیں، جس سے قحط کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ لا نینا کے دوران بارشوں کی شدت سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نیشنل اوشینک ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن کی رپورٹ کے مطابق سمندر کا پانی تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث رواں سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ شدید ہوں گی۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرمیوں کا موسم لمبا اور سردیوں کا موسم چھوٹا ہوگا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال سُپر ایل نینو کے آنے کا امکان 63 فیصد ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو اپنی بقا کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی اور قوانین بنانا ہوں گے۔


