واشنگٹن (لارڈ میڈیا): سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا ہے کہ ایران نے ٹرمپ کو وائلن کی طرح بجایا ہے۔ بولٹن کا کہنا ہے کہ تہران نے مذاکرات اور سفارتی چالوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی مرضی کے مطابق کھیلنے پر مجبور کیا۔
بولٹن، جو ایران کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے وقت حاصل کرنے اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکراتی عمل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
بولٹن نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے بعض مواقع پر ایران کے ارادوں اور حکمت عملی کا درست اندازہ نہیں لگایا۔ ان کے مطابق ایران برسوں سے پیچیدہ سفارتی حربے استعمال کرتا آیا ہے اور بین الاقوامی مذاکرات میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صبر اور مستقل مزاجی سے کام لیتا ہے۔
سابق مشیر نے استدلال کیا کہ اگر کسی فریق کو مذاکرات سے زیادہ سیاسی یا سفارتی فائدہ حاصل ہو تو اسے کامیاب حکمت عملی قرار دیا جا سکتا ہے۔


