لندن (شِنہوا) نِیچر انڈیکس 2026 ریسرچ لیڈرز کی جاری کردہ درجہ بندی کے مطابق چین اعلیٰ معیار کی سائنسی تحقیق میں دنیا میں بدستور سرفہرست رہا ہے۔
تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق 2024 سے 2025 کے درمیان چین کی تحقیقی کارکردگی میں 22.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے ساتھ یہ دنیا کے نمایاں 10 ممالک میں واحد ملک ہے جس نے دو ہندسوں کی شرح سے ترقی حاصل کی۔
اس فہرست میں امریکہ دوسرے نمبر پر جبکہ جرمنی تیسرے نمبر پر رہا۔
انڈیکس میں شامل 7 بڑے شعبہ جات میں چین نے طبعی علوم، کیمسٹری، حیاتیاتی علوم، اطلاقی علوم اور ارضیاتی و ماحولیاتی علوم میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ امریکہ صحت اور سماجی علوم میں سرفہرست رہا۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز نے دنیا کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے کی حیثیت برقرار رکھی اور صحت اور سماجی علوم کے علاوہ تمام شعبوں میں پہلا نمبر حاصل کیا۔ اس کے علاوہ چین کے 9 ادارے دنیا کے اعلیٰ 10 اداروں میں شامل ہوئے جو گزشتہ ایڈیشن کے 8 اداروں سے زیادہ ہیں۔
نیچر انڈیکس، جو معروف بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والی اعلیٰ معیار کی تحقیق کی بنیاد پر کارکردگی کو جانچتا ہے، نے اس سال اپنی کوریج میں توسیع کرتے ہوئے اپلائیڈ سائنس کے 17 جرائد، ایک کانفرنس اور سماجی سائنس کے 15 جرائد کو بھی شامل کیا ہے۔
نیچر انڈیکس کے چیف ایڈیٹر سائمن بیکر نے کہا کہ وسیع شعبہ جاتی کوریج اور بہتر طریقہ کار کے ساتھ نیچر انڈیکس اب اعلیٰ معیار کی تحقیقی سرگرمیوں کا زیادہ جامع اور درست منظر پیش کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتائج کے لحاظ سے ہم چین کی کارکردگی میں مسلسل انتہائی مضبوط پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔


