اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کی فوری کھولنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے جانوروں کے حقوق کو تسلیم کیا ہے لیکن انسانوں کے نہیں۔ مونال کی لیز کا کیس سول کورٹ میں زیر التواء تھا جبکہ کچھ انٹراکورٹ اپیلیں ہائی کورٹ میں زیر التواء تھیں۔
عدالت نے کہا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ احسن بھون نے کہا کہ ہم ادب سے کھڑے ہیں جیسے سپریم کورٹ میں تھے۔ عدالت نے وکیلوں کی طرف سے قانونی نکات نہ اٹھانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آیا ہے اور تمام فریقین متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وکلاء کے اتفاق سے عدالتیں نہیں چلتیں اور کہا کہ سپریم کورٹ کی طرح فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے۔
مزید سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔


