اسلام آباد (لارڈ میڈیا): مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، سینیٹر رانا ثنااللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے حلف نامے سے کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا کسی جماعت سے تعلق نہیں ہے اور وہ الیکشن میں حصہ لینے کو تیار نہیں۔ کمیٹی نے 2023 میں مظفرآباد میں دھرنا دیا اور 30 ارب روپے کے پیکج سمیت دیگر مطالبات کیے، جس میں سے بیشتر کو پورا کیا گیا۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ حکومت نے کمیٹی کے 37 مطالبات کو تحریری معاہدے کے ذریعے منظور کیا، لیکن مہاجرین کی نشست ختم کرنے کا ان کا ایک مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیٹیں ختم کرنا انتظامی اختیار نہیں ہے اور مہاجرین کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ انتخابات 4 اگست سے پہلے ہونے ہیں، مگر ان کا مقصد انتخابات کو روکنا تھا۔
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ بھارت کے میڈیا چینلز اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔


