ہومبسنتتنازعاتسپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی...

سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کی نظرثانی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کی نظرثانی درخواست خارج کر دی اور سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کی جانچ کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی ہے۔

جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ وقوعہ کے وقت ظاہر جعفر کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

خواجہ حارث نے دلیل دی کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، جس پر عدالت نے سوال کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا تھا۔

عدالت نے خواجہ حارث کے دلائل کو تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ استغاثہ نے مجرم کے نشہ کا ٹیسٹ نہیں کرایا اور میڈیا کے دباؤ کا حوالہ دیا گیا۔

عدالت نے سابقہ فیصلے کی روشنی میں سزائے موت کو برقرار رکھا۔ نور مقدم کے والدین کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں