چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر جیاشنگ میں شمسی توانائی کی مصنوعات تیار کرنے والے ایک خودکار پیداواری مرکز میں سابق کوالٹی انسپکٹرز اب اے آئی ماڈلز کے تربیت کار بن رہے ہیں۔
اس فیکٹری میں چین کی شمسی توانائی کی بڑی کمپنی لونگی نے اپنے تمام پیداواری عمل میں مصنوعی ذہانت اور جدید تجزیاتی نظام کو مکمل طور پر شامل کر لیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژانگ چن، اے آئی انجینئر، لونگی گرین انرجی جیاشنگ فیز ٹو
”اب ہماری تمام مصنوعات کی جانچ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ جب کسی خرابی کی نشاندہی ہو جائے تو اسے جائزے اور تصدیق کے لئے انسپکٹر کی اسکرین پر ظاہر کر دیا جاتا ہے۔
کارکردگی کے لحاظ سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے معائنے کے سارےعمل کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلے ایک پیداواری لائن کے لئے دو کارکن درکار ہوتے تھے، اب ایک کارکن چار پیداواری لائنوں کی نگرانی کر سکتا ہے۔ نتیجتاً افرادی لاگت کم ہو کر پہلے کے مقابلے میں صرف ایک آٹھواں حصہ رہ گئی ہے۔“
سال 2022 میں لونگی میں شمولیت کے بعد ژانگ نے پروڈکشن لائن میں خرابیوں کی نشاندہی کے لئے کوالٹی انسپکٹر کے طور پر کام کیا۔
آج چونکہ معائنے کا زیادہ تر کام اے آئی نے سنبھال لیا ہے۔ اس لئے ژانگ نے اب ایک نئے کردار کی صورت اختیار کر لی ہے۔ وہ اے آئی ماڈل کے ایک تربیت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ژانگ چن، اے آئی انجینئر، لونگی گرین انرجی جیاشنگ فیز ٹو
”ہمارا کردار براہِ راست نگرانی کرنے والے منتظمین سے اے آئی ماڈل کے تربیت کاروں کے طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ اب فیکٹری فلور پر مسائل سامنے آنے کے بعد فوری ردعمل دینے کے بجائےہماری زیادہ توجہ تربیت اور پیشگی روک تھام پر مرکوز ہے۔“
کمپنی نے حسبِ ضرورت خصوصی ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت کے ذریعے ایک ہزار سے زائد ملازمین کو ڈیٹا تجزیہ کار، سیمولیشن انجینئرز اور ڈیجیٹل کوآرڈینیٹر جیسے عہدوں پر منتقل ہونے میں مدد دی ہے۔
اب تک 400 سے زائد ملازمین سرٹیفیکیشن پروگرامز مکمل کر کے اپنے کیریئر میں ترقی حاصل کر چکے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژو منگ جیا، سربراہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن آفس، لونگی گرین انرجی ژے جیانگ بیس
“جیسے جیسے ملازمین کی اپنی مہارتوں میں بہتری آ رہی ہےوہ بہتر تنخواہیں اور وسیع تر پیشہ ورانہ مواقع بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اسی دوران اس نظام کی بدولت گروپ کےسالانہ منافع میں 6 کروڑ یوآن (تقریباً 88 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) سے زائد رقم آئی ہے۔ یہ واقعی کمپنی کے لئے اعلیٰٰ کارکردگی اور ملازمین کے لئے زیادہ آمدنی کا باعث بن رہی ہے جس سے تمام لوگوں کو ڈیجیٹل تبدیلی کے فوائد سے مستفید ہو نے کا موقع مل رہا ہے۔”
ہانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


