ہوماہم ترینتل کے بیجوں سے مویشیوں تک: چین اور پاکستان کا زرعی تعاون...

تل کے بیجوں سے مویشیوں تک: چین اور پاکستان کا زرعی تعاون مزید گہرا

شی آن (شِنہوا) نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی (این ڈبلیو اے ایف یو) کے 57 سالہ پروفیسر ژانگ لی شن نے شاید کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ 2008 میں فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے پاکستانی پروفیسر محمد اشرف سے ہونے والی ایک اتفاقی ملاقات 18 سالہ زرعی شراکت داری کی بنیاد بن جائے گی۔

چین اور پاکستان کے درمیان مسلسل سفر کرتے ہوئے ژانگ اور ان کی ٹیم نے تقریباً 2 دہائیوں تک چین کی خشک زمین پر کاشتکاری کی تحقیق کو براہ راست پاکستانی کھیتوں تک پہنچایا اور مقامی کسانوں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کئے۔

پنجاب کے کسان عارف رفیق فریستا نے کہا کہ ’’چینی ماہرین نے ہاتھوں ہاتھ ہماری مدد کی تاکہ فصلوں کی اقسام اور زمین کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اب میری تل کی فصل زیادہ پیداوار دیتی ہے اور اسے برآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

پنجاب تل پیدا کرنے والا ایک اہم خطہ ہے لیکن مقامی کسان طویل عرصے تک فصل کی کمزور مزاحمت کے باعث غیر مستحکم آمدنی کا شکار رہے۔ ان ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد ژانگ کی ٹیم نے بار بار فیلڈ ٹرائلز کے بعد تل کی 3 نئی اقسام متعارف کروائیں جن کی پیداوار مقامی اقسام کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ بڑھی۔

چین سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر کے اب لاہور میں زرعی رہنمائی فراہم کرنے والے رانا اصغر نے بتایا کہ ژانگ کی ٹیم نے کسانوں کو روایتی ہل چلانے کے طریقوں سے ہٹا کر حیاتیاتی باقیات سے ڈھکی بغیر ہل چلائی گئی کاشتکاری اور ابھری ہوئی کیاریوں پر کاشت کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے کہا ’’یہ عملی ٹیکنالوجیز جڑوں کی سڑن سے بچاتی ہیں، پانی محفوظ کرتی ہیں اور مقامی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر چکی ہیں۔”

کاشتکاری کے اس جدید طریقے نے براہ راست چینی منڈیوں تک رسائی بھی ممکن بنائی۔ 2024 میں پاکستان سے تل کی پہلی کھیپ چین برآمد کی گئی جس کا وزن 3 ہزار 500 ٹن تھا جبکہ 2025 میں یہ مقدار بڑھ کر5 ہزار ٹن ہو گئی۔ 12 معیاری کنٹریکٹ آزمائشی فارمز کی بدولت پاکستان کے اہم تل پیدا کرنے والے علاقوں میں پیداوار اور معیار دونوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

اس زرعی کامیابی نے این ڈبلیو اے ایف یو کو افرادی قوت کی تربیت کا ایک اہم مرکز بھی بنا دیا ہے جہاں 2007 سے اب تک 844 پاکستانی بین الاقوامی طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے جن میں سے 90 فیصد واپس پاکستان آ کر زرعی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔

چین کی نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کے پروفیسر ژاؤ لی من (دائیں سے چوتھے) پاکستان میں ایک زرعی آزمائشی مرکز پر سبزیوں کی کاشت کے طریقہ کار سے متعلق تبادلہ خیال کر رہے ہیں-(شِنہوا)

ان طلبہ میں اختر حافظ محمد بلال بھی شامل ہیں جو حیوانی جینیات میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم ہیں اور 2025 میں داخل ہوئے۔ صوبہ شانشی کے جدید لائیوسٹاک فارمز میں عملی تربیت کے دوران بلال نے چین کی جدید مشینی ٹیکنالوجی اور مویشیوں میں ایمبریو ٹرانسفر اور مصنوعی افزائش نسل کی اعلیٰ درستگی کو قریب سے دیکھا۔

بلال نے کہا کہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ این ڈبلیو اے ایف یو کی لیبارٹریاں ہمیشہ ہمارے لئے کھلی رہتی ہیں اور چینی پروفیسرز کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے رابطہ مجھے کسی بھی وقت رہنمائی حاصل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔”

چین کی نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کے پروفیسر ژاؤ لی من (دائیں سے دوسرے) پاکستان میں سندھ زرعی یونیورسٹی کے اندر ایک آزمائشی مرکز پر سبزیوں کی کاشت کے طریقوں کے بارے میں اپنی مہارت کا تبادلہ کر رہے ہیں-(شِنہوا)

انہوں نے مزید کہا کہ ’’میرا مقصد جلد از جلد اپنی تعلیم مکمل کرنا اور چین کی جدید مویشی ٹیکنالوجی کو پاکستان میں متعارف کرانا ہے۔‘‘ چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے عہدیدار چھینگ یو نے کہا کہ زراعت چین۔پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کی ترجیحی توجہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اقسام کے انتخاب اور تکنیکی جدت میں شاندار نتائج کی وجہ سے یہ شراکت داری دوطرفہ زرعی تعاون کے لئے ایک مثالی نمونہ بن گئی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں