ہانگ کانگ (شِنہوا) چین نے اتوار کے روز شین ژو-23 انسان بردار خلائی جہاز کو کامیابی سے لانچ کیا جس کے ذریعے 3 خلانوردوں کو مدار میں موجود اپنے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر طویل مدتی قیام اور جدید سائنسی تجربات کی نئی مشقیں کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔
یہ مشن کئی تاریخی حوالوں سے منفرد ہے، جس میں پہلی بار چین کے خلا بازوں کے تیسرے گروپ سے تعلق رکھنے والا کوئی کمانڈر مشن کی قیادت کر رہا ہے جبکہ پہلی مرتبہ عملے کا ایک رکن خلا میں ایک سال تک قیام کرے گا۔ مزید برآں اس عملے میں لائی کا- ینگ بھی شامل ہیں جو خلائی سفر کرنے والی چین کے ہانگ کانگ کی پہلی خلانورد اور ملک کی چوتھی خاتون خلائی مسافر ہیں جو اس مہم میں پے لوڈ سپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
مشن کے کمانڈر ژو یانگ ژو نے اس 3 رکنی ٹیم کو پزل کے 3 الگ الگ ٹکڑے قرار دیا جو ایک دوسرے میں بالکل فٹ بیٹھتے ہیں۔ اس عملے میں فلائٹ انجینئر ژو، خلائی جہاز کے پائلٹ ژانگ ژی یوآن اور لائی شامل ہیں۔
شین ژو-23 کے عملے کے باہمی ہم آہنگی سے ہٹ کر چین دراصل اپنے انسان بردار خلائی پروگرام کے لئے غیر ملکی خلابازوں کا انتخاب کر کے چاند کی تسخیر کے پروگرام میں بین الاقوامی تعاون بڑھا کر اور خطے اور دنیا بھر میں سیٹلائٹ تعاون کے ذریعے اس "پزل” کو بڑے پیمانے پر پھیلا رہا ہے۔ چین کے ان بڑے خلائی منصوبوں کی اہمیت اب قومی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی تعاون کے لئے ایک کھلا پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔
اتوار کو شین ژو-23 خلائی جہاز کی لانچنگ سے قبل ایک پریس کانفرنس میں چین کے خلائی مشن کی تربیت کے لئے پہلے غیر ملکی خلانوردوں کے طور پر منتخب کئے گئے 2 پاکستانی خلانوردوں کی موجودہ صورتحال پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
اپریل کے اوائل میں چین نے غیر ملکی خلانوردوں کے لئے اپنا پہلا انتخابی عمل مکمل کیا۔ 2 پاکستانی خلا نوردوں کو منتخب کیا گیا جو اب بیجنگ میں چینی خلانورد مرکز میں داخل ہو چکے ہیں جہاں وہ اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ مشن کی تربیت میں حصہ لے رہے ہیں۔
چین کے انسان بردار خلائی ادارے (سی ایم ایس اے) کے ترجمان ژانگ جنگ بو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس حوالے سے تمام کام آسانی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ژانگ نے کہا کہ پاکستانی خلانوردوں کو ایسی تربیت دی جا رہی ہے جس کا محور عملی طور پر کام کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبان کی تیاری بھی جاری ہے جس میں چینی زبان کا بنیادی علم اور مشن کی انجام دہی کے لئے درکار متعلقہ کمانڈ الفاظ شامل ہیں۔
تمام مطلوبہ تربیت مکمل کرنے اور امتحانات پاس کرنے کے بعد ان دونوں میں سے ایک پے لوڈ سپیشلسٹ کے طور پر خلائی مشن میں حصہ لے گا اور چین کے تیان گونگ خلائی سٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلانورد بن جائے گا۔
سی ایم ایس اے کا کہنا ہے کہ پاکستانی خلانوردوں کا انتخاب اور تربیت چین کے خلائی سٹیشن پر بین الاقوامی تعاون میں ایک تاریخی کامیابی ہے اور یہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنی خلائی ترقی کی کامیابیوں کا تبادلہ کرنے میں چین کے کھلے رویے کا مظہر ہے۔
پاکستان کے سپارکو میں پراجیکٹ مینجمنٹ اینڈ سسٹم انجینئرنگ کے ڈائریکٹر محمد یاسر نے کہا کہ چین کے ساتھ قریبی ایئرو سپیس تعاون پاکستان کے لئے قومی خلائی عزائم کو آگے بڑھانے، انسانی وسائل تیار کرنے اور بین الاقوامی خلائی تسخیر کی کوششوں میں بامعنی حصہ ڈالنے کا ایک سٹریٹجک موقع فراہم کرتا ہے۔
چین نے گہرے خلا کی تسخیر کی اپنی جستجو کو کبھی نہیں روکا۔ 2026ء کی دوسری ششماہی میں لانچ کے ہدف کے ساتھ چھانگ ای-7 خلائی جہاز چین کے جنوبی صوبے ہائی نان کے وین چھانگ سپیس لانچ سائٹ پر حتمی تیاریوں کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ یہ چاند کے جنوبی قطب کے ماحولیاتی اور وسائل کے سروے کے لئے چاند کا سفر کرے گا۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کے چھانگ ای قمری تحقیقی پروگرام نے تاریخی سنگ میل عبور کئے ہیں۔ چھانگ ای-4 نے چاند کی دوسری سمت میں دنیا کی پہلی سافٹ لینڈنگ کی پوزیشن حاصل کی۔ چھانگ ای-5 نے چاند کے نمونے اکٹھے کر کے زمین پر واپسی مکمل کی جبکہ چھانگ ای-6 نے چاند کی دوسری سمت سے نمونے واپس لانے کا انسانی تاریخ کا پہلا کارنامہ انجام دیا۔


