استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی میں حالیہ دنوں ”چائنہ ڈے“ کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں طلبہ اور اساتذہ نے ثقافت اور ٹیکنالوجی کا شاندار امتزاج دیکھا۔ انہوں نے ہانفو پہننے کا تجربہ کیا۔ چینی کھانوں کے ذائقے چکھے اور روایتی چینی طب کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اسی دوران معروف چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی تازہ ترین ایجادات پیش کیں جس سے طلبہ کو جدید اور اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کا عملی تجربہ اور مستقبل کے کیریئر کے مواقع حاصل ہوئے۔
اس ایونٹ میں استنبول میں چین کے قونصل جنرل وی شیاؤڈونگ اور استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ریکٹر حسن مندار نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے چینی ثقافت اور ٹیکنالوجی کا براہِ راست تجربہ کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): شو وین جی، نمائندہ ہواوے، ترکیہ
”ہواوے گزشتہ 20 برسوں سے ترکیہ کی منڈی میں موجود ہے۔ ہم ہمیشہ ترک صارفین کو جدید اور اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی مصنوعات کی فراہمی کے لئے پرعزم رہے ہیں۔ ان برسوں میں ہم نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مستقبل میں بھی ہم تحقیق، ترقی اور جدت میں بھاری سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔“
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): چنگ کے، ڈپٹی جنرل منیجر ، وی وو، ترکیہ
”وی وو نے آج اپنی مکمل پروڈکٹ لائن پیش کی ہے۔ دراصل یہ ڈیوائس ابھی تک ترکیہ میں متعارف نہیں کرائی گئی تھی۔ آج یہاں اسے پہلی بار نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔ ہمارے بوتھ کا دورہ کرنے والے یونیورسٹی کے بہت سے طلبہ نے اس پروڈکٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے اسے بہت پسند کیا۔“
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ژاؤ یوانجن، ہیڈ آف کنزیومر سیلز، ڈی جے آئی، ترکیہ
”اس ایونٹ میں ڈی جے آئی کی جانب سے پیش کی جانے والی مصنوعات پیشہ ورانہ اور عام صارفین دونوں شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): طالبہ، استنبول اوکان یونیورسٹی
”یہ واقعی حیران کن منظر تھا۔ یہ ایسی زبردست ٹیکنالوجی ہے جو کنٹرولر کے بغیر آپ کے ہاتھ کے اشاروں پر عمل کرتی ہے۔ آپ اسے براہِ راست کنٹرول نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ خود آپ کے پیچھے چلتی اور آپ کی حرکات کو پہچانتی ہے۔“
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): طالبہ، استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی
”میں نے ابھی روایتی چینی لباس پہنا ہے۔ مجھے یہ بہت پسند آیا کیونکہ مجھےبچپن سے ہی چین کی چیزوں، اُن کی زبان اور خاص طور پر اُن کے گانوں میں دلچسپی ہے۔ ای لئےان سے مجھے سکون ملتا اور اعتماد کا احساس ہوتاہے۔“
استنبول، ترکیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


