دوشنبے (شِنہوا) تاجک صدر امام علی رحمان نے کہا ہے کہ تاجکستان اور چین نے حالیہ برسوں میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مستقل طور پر وسعت دی ہے جس سے دوطرفہ تعلقات نئی تاریخی بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں۔
صدر رحمان نے ان خیالات کا اظہار دوشنبے میں چینی صدر شی جن پھنگ کی دعوت پر چین کے اپنے سرکاری دورے سے قبل شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف تاجکستان کا قریبی ہمسایہ بلکہ ایک تزویراتی شراکت دار بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے 30 سال سے زائد عرصے میں دونوں ممالک نے گہری دوستی اور باہمی اعتماد کا رشتہ استوار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے علاقائی سلامتی اور پائیدار ترقی کو درپیش چیلنجز اور خطرات کا موثر جواب دینے کے لئے باہمی سیاسی اعتماد اور باہمی فائدہ مند تعاون کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔
صدر رحمان نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دوطرفہ تعلقات میں مزید نکھار آیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح بالخصوص اعلیٰ ترین سطح پر قریبی روابط برقرار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجکستان جولائی 2024 میں صدر شی کے دورہ تاجکستان کے اہم نتائج کو بہت اہمیت دیتا ہے جس نے دوطرفہ دوستی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے دور میں چین-تاجکستان جامع تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کے قیام کے اعلان کے مشترکہ بیان پر دستخط کے ساتھ دوطرفہ تعلقات ایک نئی تاریخی سطح پر پہنچے ہیں۔


