واشنگٹن(شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی اب بھی برقرار ہے لیکن یہ ’بمشکل قائم‘ ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران کی تازہ ترین تجویز مسترد کرنے کے باوجود تہران کے ساتھ سفارت کاری جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کہوں گا کہ جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور موجودہ جنگ بندی کو ’’ناقابل یقین حد تک کمزور‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کے امن منصوبے پر ایران کے تازہ ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے ایک روز قبل مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے اسے ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی بھی امن معاہدے کے لئے ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حصول کی کوشش ترک کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے افزودہ یورینیم ترک کرنے اور امریکہ کو اسے ہٹانے کی اجازت دینے کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی ہے۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے دو دن پہلے ایسا کیا تھا لیکن پھر اپنا ارادہ بدل لیا کیونکہ انہوں نے اسے تحریری معاہدے میں شامل نہیں کیا۔
ٹرمپ نے ایران کے اس افزودہ یورینیم کے بارے میں کہا جو جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ملبے تلے دب گیا تھا کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ پہلی بات آپ اسے حاصل کر رہے ہیں لیکن آپ کو اسے خود نکالنا ہوگا۔ یہ مقام اس قدر تباہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں صرف ایک یا دو ممالک ہی اسے وہاں سے نکال سکتے ہیں۔
ایران نے عوامی طور پر اپنے افزودہ یورینیم سے دستبردار ہونے پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور اس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔


