ایک امریکی صحافی نے بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے تناظر میں چین میں تیزی سے ہونے والی تکنیکی جدت اور بدلتے ہوئے کاروباری ماڈلز کو نمایاں کیا ہے۔
کتاب ’’ ٹیک ٹائی ٹینز آف چائنہ‘‘ کی مصنفہ ریبیکا اے فنین نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
فنین نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کی ٹیکنالوجی صنعت میں بڑی تبدیلیاں دیکھی ہیں کیونکہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب عالمی سطح پر بااثر کھلاڑیوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ریبیکا اے فنین، امریکی صحافی، مصنفہ، ’’ ٹیک ٹائی ٹینز آف چائنہ‘‘
“جب بھی آپ کسی چیز پر دباؤ ڈالتے ہیں میرے خیال میں اس سے جدت مزید نکھر جاتی ہے۔
“میری پہلی کتاب ’’سیلیکان ڈریگن‘‘ تھی جو سال 2008 میں شائع ہوئی۔ اُس وقت کافی شکوک و شبہات تھے کہ آیا چین اس میدان میں حصہ بھی لے سکتا ہے یا نہیں۔جیتنا تو دور کی بات تھی۔ لیکن پھر وہ ٹیکنالوجی رہنما سامنے آئے، وہ ترقی کرتے گئے اور بالآخر یہ بڑے ٹیکنالوجی ادارے بن گئے۔”
مغرب میں چینی جدت پر ہونے والی بحث اکثر ہارڈویئر اور دانشورانہ املاک تک محدود رہتی ہے۔ تاہم فنین ایک مختلف مسابقتی طاقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ مسابقتی طاقت کاروباری ماڈلز میں جدت اور بڑے پیمانے کے انضمام پر مبنی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ریبیکا اے فنین، امریکی صحافی، مصنفہ ’’ ٹیک ٹائی ٹینز آف چائنہ‘‘
“میرے خیال میں کاروباری ماڈلز وہ اہم شعبہ ہیں جہاں چین نے غیر معمولی جدت دکھائی ہے۔ آپ مختلف ادائیگی کے نظام دیکھتے ہیں، ای کامرس کی مختلف اقسام اور اسکیلنگ کے مختلف طریقے۔ میرا خیال ہے یہ عمل ابھی بھی جاری ہے اور ترقی کر رہا ہے۔”
ریبیکا فنین نے مزید کہا کہ جہاں ماضی میں چینی کاروباری رہنما سلیکون ویلی سے سیکھتے تھے، اب امریکی کمپنیاں خاموشی سے چین کے ماڈلز کا مطالعہ کر رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ریبیکا اے فنین، امریکی صحافی، مصنفہ ’’ ٹیک ٹائی ٹینز آف چائنہ‘‘
“آپ جمود کا شکار نہیں رہ سکتے۔ اگر آپ جمود کا شکار ہو جائیں تو اس ماحول میں آپ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں اس وقت ہم دباؤ کے تحت جدت دیکھ رہے ہیں، اور یہ ایک نئی جدت کی لہر کا باعث بن سکتی ہے۔”
نیویارک، امریکہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


