ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال قبل پاکستان نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست دے کر اس کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا، بھارت اپنے اندرونی مسائل کم کرنے کی بجائے بڑھا رہا، پروفیشنل فوج کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، بھارتی فوج سندور سے نکلتی کیوں نہیں، آپریشن کا کوئی مردانہ نام ہی رکھ لے، بھارتی سرپرستی میں خوارج افغان سرزمین مسلسل پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کررہے، آپریشن غضب الحق کے بعد دہشت گردی واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، بتایا جائے کفار کیساتھ معاہدہ، اسلامی ممالک پر حملہ کونسا جہاد ہے؟، خوارج دائرہ اسلام سے باہر ٹھکانا جہنم ہے، بعض عناصر کی جانب سے انتہاپسندانہ بیانیہ، متنازع روابط خطے کے استحکام کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، خطے میں استحکام کیلئے تمام فریقین کو سنجیدہ، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی رویہ اپنانا ہوگا، غیر ضروری بیانیہ غلط فہمیاں پیدا، علاقائی امن کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
جمعرات کو معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے سینئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہوا پاکستان ہی نہیں ہندوستان کا بھی بچہ بچہ جانتا ہے، ہم نے اپنے سے 5گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، ہم نے ایک سال قبل بھارت کا غرور خاک میں ملادیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ پر بغیر تحقیقات لمحوں میں پاکستان پر الزام لگا دیا گیا، واقعہ کے فورا بعد چند منٹوں میں ایف آئی آر درج کر کے دعوی کر دیا گیا حملہ آور باہر سے آئے تھے، حالانکہ آج تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا گیا، اگر بھارتی انٹیلی جنس اتنی ہی موثر اور باخبر تھی تو سینکڑوں کلومیٹر اندر آنیوالے افراد کے بارے میں پہلے سے معلومات کیوں نہ مل سکیں؟، اس وقت بھارتی ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے، وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ کروایا، بھارت بتائے کہ کس دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا؟ ہم سال پہلے بھی تیار تھے ہم آج بھی تیار ہیں، آج بھی بین الاقوامی برادری یہی سوال کر رہی ہے کہ پہلگام واقعہ کے پیچھے کون تھا اور اس کا مقصد کیا تھا، پاکستان کے عوام کیساتھ ساتھ بھارت کے باشعور حلقے بھی ان سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا نمائندے مختلف مقامات اور مساجد تک گئے اور انہوں نے خود یہ سوال اٹھایا کہ آخر بھارتی حملوں میں کون لوگ نشانہ بنے، دنیا نے دیکھا کہ متاثرین میں بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری شامل تھے، بھارت اپنے ملک میں بھی اقلیتوں اور کشمیریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت کی نام نہاد پیشہ ورانہ عسکری سوچ کی کئی مثالیں سامنے آئیں،بعض مواقع پر بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایسے بیانات دیئے گئے جو ایک پیشہ ور فوجی رویئے کی بجائے سیاسی نوعیت کے دکھائی دیئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی قیادت اپنے سیاسی بیانئے کو فوجی اداروں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دی، جبکہ پاکستان کی مسلح افواج نے پورے عرصے کے دوران مکمل پیشہ ورانہ طرزِ عمل اختیار کیا،پاکستانی فوج کے کسی افسر نے کبھی سیاسی قیادت کے بیانات کو بنیاد بنا کر اشتعال انگیز طرزِ گفتگو اختیار نہیں کیا، جبکہ بھارتی سیاست دانوں کے بیانات اکثر جنگی ماحول پیدا کرنے والے محسوس ہوتے تھے، بھارتی قیادت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز نعرے اور جارحانہ بیانات سامنے آتے رہے، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر ذمہ داری، تحمل اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا، اگر بھارت کو کسی معاملے پر اعتراض یا اختلاف ہے تو اسے اشتعال انگیز بیانات کی بجائے براہِ راست اور ذمہ دارانہ انداز میں بات کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں کو یہ شک تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر متحد نہیں، تاہم حالات نے ثابت کر دیا کہ بچے سے لے کر بزرگ تک، غریب سے لے کر امیر تک، کشمیر سے گوادر تک پوری قوم ایک ہو کر کھڑی رہی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے یہ جھوٹا بیانیہ بنا رہا تھاکہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے مگر پاکستان پر الزامات لگانے والا خود سب سے بڑا دہشتگرد ہے، بھارت مکاری سے بیانیہ بنا کر پاکستان میں دہشت گردی کرتا رہا اور کر رہا ہے مگر اس کا بھارت کا پاکستان مخالف دہشت گردی بیانیہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کم کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ حل طلب معاملہ ہے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، بھارت جھوٹ بولنے سے باز آئے اور سچی بات بتائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی پروفیشنل فوج کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، بھارتی فوج سندور سے نکلتی کیوں نہیں، کوئی مردانہ نام رکھ لے، ہم بھارت سے پچھلی کہانی کا کہہ ہی نہیں رہے،اگلی بات کی جائے، بھارت نے پہلے بھی پراکسیز لانچ کی اور اب بھی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے معرکہ حق کے دوران ہر صورتحال میں مکمل تیاری اور تحمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ بعض بھارتی میڈیا چینلز اور دفاعی حلقوں کی جانب سے جذباتی اور غیر متوازن بیانات سامنے آتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت معصوم بچوں اور عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ ہم ملٹری کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور فخر سے دکھاتے بھی ہیں، ایک پیشہ ور فوج کا طرزِ عمل یہی ہوتا ہے کہ وہ حقائق اور حکمت عملی کے ساتھ بات کرے نہ کہ غیر ضروری جذبات یا غیر مصدقہ دعوئوں پر انحصار کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پورے سال کے دوران اپنی دفاعی پالیسی اور آپریشنل تیاری کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھا اور ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025میں معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت مختلف اقدامات کئے جن کا تسلسل اکتوبر 2025ء تک جاری رہا، اس دوران پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے معاون ڈھانچوں کے خلاف بھی کارروائیوں کی نشاندہی کی اور انہیں ختم کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے بتایاکہ معرکہ حق میں پاکستان نے اپنے سے 5گنا بڑے دشمن کو شکست دی، افواج پاکستان قوم کی توقعات پر ہمیشہ پوری اتری ہیں اور آئندہ بھی پورا اتریں گی، پاکستان کی قیادت، فوج اور عوام متحد ہیں، ہم خطے میں امن کیلئے سب سے زیادہ کوششیں کررہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے افغان طالبان کو جگہ اور سہولیات دی ہوئی ہیں، افغانستان کی سرزمین مسلسل فتنہ الہندوستان کے خوارج پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب الحق کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ، کفار کیساتھ معاہدہ کرنا، اسلامی ممالک پر حملہ کرنا کونسا جہاد ہے؟ یہ دائرہ اسلام سے باہر ہیں، جہنم ان کا ٹھکانا ہے، بھارت کے خواب میں دن رات پاکستان اور فیلڈ مارشل آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بارہا یہ موقف اپنایا کہ ملک میں ہونیوالی دہشت گردی کے تانے بانے بیرونی روابط سے جڑے ہیں جن میں بعض عناصر افغانستان کی سرزمین کا استعمال بھی کرتے ہیں، پاکستان نے اس مسئلے کے حل کیلئے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی کوشش کی اور یہ اصولی موقف اپنایا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بارڈر فسیلی ٹیشن اور سرحد پار نقل و حرکت کے معاملات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا، معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کارروائیوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن واضح طور پر تبدیل ہوا جس کے نتیجے میں مخالف فریق کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خطے کے تمام ممالک کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور تعاون کی بات کی ہے، جبکہ بعض عناصر کی جانب سے انتہاپسندانہ بیانیے اور متنازع روابط خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام کیلئے ضروری ہے کہ تمام فریقین سنجیدہ، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی رویہ اپنائیں، کیونکہ غیر ضروری بیانیہ نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔


