چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم تمام ضلعی عدالتوں کو ایک ہی مقام پر منتقل کرنے کیلئے جوڈیشل ٹاور فیز ون منصوبے کا سنگ بنیاد 8مئی کو رکھیں گی۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس کی منظوری سے جوڈیشل ٹاور منصوبے سے لاہور کے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا جس کے تحت لاہور شہر میں مختلف مقامات پر قائم سیشن، سول، فیملی اور فوجداری عدالتوں کو مرحلہ وار ایک ہی عمارت میں منتقل کیا جائے گا،اقدام کا مقصد سائلین اور وکلا کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور مقدمات کے جلد اور موثر فیصلے کو یقینی بنانا ہے۔
منصوبے کے تحت جوڈیشل ٹاور میں تقریبا 200عدالتیں قائم کی جائیں گی، 17منزلوں پر مشتمل عمارت میں 3بیسمنٹ فلورز پارکنگ کیلئے مختص کئے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں جوڈیشل ٹاور فیز ون پرنٹنگ پریس کی جگہ پر بنایا جائے گا جس کے بعد فیز ون مکمل ہونے پر ایوان عدل میں تمام عدالتوں کو منتقل کرنے کے بعد فیز ٹو کا آغاز ہوگا۔
عمارت کو مختلف بلاکس میں تقسیم کیا جائے گا، ان میں کورٹس بلاک، ایڈمنسٹریٹو بلاک، وکلا کیلئے علیحدہ بلاک، اے ڈی آر سنٹر، ریکارڈ رومز، جدید آرکائیوز، سکیورٹی کنٹرول رومز اور سائلین کیلئے ویٹنگ ایریاز شامل ہوں گے۔
علاوہ ازیں عمارت میں جدید لفٹس، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم اور سکیورٹی کے موثر انتظامات بھی کئے جائیں گے، جوڈیشل ٹاور میں وکلا کی پارکنگ کے دیرینہ مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے میں ملٹی لیول پارکنگ بھی شامل کی گئی ہے، جہاں سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش رکھی جائے گی، وکلا، ججز اور سائلین کیلئے الگ الگ پارکنگ زونز مختص کئے جائیں گے تاکہ رش اور بدنظمی پر قابو پایا جا سکے۔
حکام کے مطابق منصوبہ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور ابتدائی مرحلے (فیز ون) پر تقریبا 9ارب 15کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ابتدائی بلاکس اور ضروری انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔


