ہومانٹرنیشنلایران کے خلاف فوجی مہم ختم ہوچکی، امریکی وزیر خارجہ کا اعلان

ایران کے خلاف فوجی مہم ختم ہوچکی، امریکی وزیر خارجہ کا اعلان

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مشترکہ طور پر شروع کی گئی امریکی فوجی مہم ختم ہو چکی ہے۔

روبیو نے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ جیسا کہ صدر نے کانگریکس کو بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری ختم ہو چکا ہے اور ہم اس مرحلے سے نکل چکے ہیں۔

روبیو نے مزید کہا کہ اب ہم "پروجیکٹ فریڈم” کی طرف جا رہے ہیں، یہ وہ فوجی آپریشن ہے جو پینٹاگون نے پیر کے روز شروع کیا تھا تاکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو وہاں سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب واشنگٹن کی ترجیح اس اہم عالمی توانائی کے راستے کو دوبارہ کھلوانا ہے۔

یہ اعلان اس کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے اختیارات سے متعلق قرارداد کو نظر انداز کرے جس کے مطابق 60 دن بعد جنگ یا فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لئے صدر کو کانگریس سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

روبیو نے صدر ٹرمپ کے اس موقف کو بھی دہرایا کہ 1973 کا یہ قانون جو صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرتا ہے، 100 فیصد غیر آئینی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں 60 دن کی قانونی حد پوری ہونے پر ختم کر دی گئی ہیں۔

تاہم ٹرمپ نے یہ بھی واضح طور پر نہیں کہا کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار رہے تو فوجی حملے دوبارہ شروع کئے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ روبیو نے کہا کہ اب ایران کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ واضح کرے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا جو واشنگٹن کے ساتھ امن معاہدے کے لئے اہم شرط ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کر کے دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے اور تہران پر الزام لگایا کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنانے اور یورینیم افزودگی کے لئے زیر زمین تنصیبات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کچھ نہ کچھ کرنا ضروری ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں