کونمنگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبہ یون نان کے پہاڑوں میں بہار کی دھوپ میں بانس کے وسیع جنگلات لہلہا رہے ہیں۔ یہاں سے سینکڑوں کلومیٹر دور چین اور ویتنام کی سرحد پر بانس کی خوبصورت کرسیوں کی ایک کھیپ کسٹمز کے معائنے سے گزرنے کے بعد ہنوئی کے صارفین کے لئے روانہ کر دی گئی ہے۔
رواں سال فروری میں پہلے آرڈر کے بعد سے یون نان کی کاؤنٹی داگوان کی کرسیوں اور لاٹھیوں سمیت بانس سے بنی مصنوعات ویتنام میں بہت مقبول ہو رہی ہیں اور ان کے آرڈرز کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
ایک مقامی بانس کلچر ٹیکنالوجی کمپنی کی چیئرپرسن او شیان چھن نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ بانس کی اعلیٰ معیار کی مصنوعات سرحدیں عبور کر سکتی ہیں اور سمندر پار دوستوں کو چینی بانس کی ثقافت کی خوبصورتی کا احساس دلا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی مصنوعات آسٹریلیا، جاپان، امریکہ، سنگاپور اور دیگر ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں اور گزشتہ 3 سال میں ان کی برآمدات کی مالیت تقریباً 20 لاکھ یوآن (تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔
داگوان کاؤنٹی اپنی سازگار آب و ہوا اور جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے بانس کی پیداوار کا مرکز ہے۔ 2025 تک اس کاؤنٹی میں بانس کی شجرکاری کا رقبہ 68 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا تھا جبکہ بانس کی صنعت کی مجموعی پیداواری مالیت 3.1 ارب یوآن سے تجاوز کر گئی ہے۔
چین دنیا میں بانس کے سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا اور اس کے استعمال میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے جس کی وجہ سے اسے "بانس کی سلطنت” کا خطاب ملا ہے۔ نیشنل فارسٹری اینڈ گراس لینڈ ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 80 لاکھ ہیکٹر پر بانس کے جنگلات ہیں جہاں سے سالانہ 15 کروڑ ٹن بانس حاصل ہوتا ہے۔ بانس کی صنعت سے سالانہ 520 ارب یوآن سے زیادہ کی آمدن ہوتی ہے اور مارکیٹ میں بانس کی 15 ہزار سے زائد اقسام کی مصنوعات دستیاب ہیں۔
چونکہ چین آلودگی اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لئے لکڑی اور پلاسٹک کی جگہ بانس کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس لئے چینی کاروباری ادارے عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں۔ وہ بیرونی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پائیدار ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔


