ہومتازہ ترینجرمن ریاست توانائی اور جدت کے شعبوں میں چین کے ساتھ مزید...

جرمن ریاست توانائی اور جدت کے شعبوں میں چین کے ساتھ مزید گہرے تعاون کی خواہاں

کیل، جرمنی (شِنہوا) جرمنی کی شمالی ریاست شلیز وگ ہولشٹائن کے وزیراعلیٰ ڈینیئل گینتر نے کہا ہے کہ شلیز وگ ہولشٹائن اور چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے درمیان توانائی کی منتقلی، ہائیڈروجن اور جدید پیداوار کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے ۔

ان کا یہ بیان دونوں خطوں کے درمیان 40 سالہ شراکت داری کی تکمیل کے موقع پر سامنے آیا ہے تاہم دونوں فریق پیچیدہ جغرافیائی سیاسی اور تجارتی ماحول کے باوجود تعلقات کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے شِنہوا نیوز ایجنسی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور 40 سال سے زیادہ عرصے میں مضبوط دوستی قائم کر چکے ہیں۔ انہوں نے سائنس، تحقیق اور کاروبار میں طویل مدتی تعاون کو بھی اجاگر کیا۔

گزشتہ تین دہائیوں میں شلیز وگ ہولشٹائن نے اپنی 200 سے زائد مقامی کمپنیوں کو چین میں کاروبار شروع کرنے یا توسیع دینے میں مدد دی ہے جبکہ ژے جیانگ کی تقریباً 70 کمپنیوں نے جرمنی کی ریاست میں اپنی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔

انہوں نے چین کے ساتھ کھلی تجارت اور قریبی اقتصادی تعاون کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ علاقائی تعاون وفاقی سطح کے تعلقات کی اہم تکمیل ہے۔

توانائی کی منتقلی دونوں خطوں کے لئے ایک اہم مشترکہ شعبہ ہے۔ شلیز وگ ہولشٹائن نے جوہری توانائی کو ختم کر دیا ہے اور مکمل طور پر قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، جس کے تحت 2026 تک تقریباً 10 گیگا واٹ آف شور ونڈ پاور کی توقع ہے جبکہ شمسی توانائی کی پیداوار بھی بڑھائی جا رہی ہے۔

جرمنی کے علاقے برینڈن برگ میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ٹربائنز کا منظر-(شِنہوا)

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں