ہومتازہ ترینچین کا سائبر سکیورٹی اور صنعتوں کے متعلق یورپی یونین کی تجاویز...

چین کا سائبر سکیورٹی اور صنعتوں کے متعلق یورپی یونین کی تجاویز پر شدید تشویش کا اظہار

برسلز (شِنہوا) چین نے سائبر سکیورٹی سے متعلق یورپی یونین (ای یو) کی حالیہ مجوزہ ترمیم اور صنعتی قواعد کے مجوزہ ایکٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ اقدامات چین اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بلاک کی ڈیجیٹل اور ماحول دوست منتقلی کو سست کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین میں چینی مشن کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی پریس بریفنگ میں مشن کے وزیر برائے تجارت و معیشت سو پینگ نے کہا کہ یورپی یونین کے سائبر سکیورٹی ایکٹ میں حالیہ مجوزہ ترمیم میں حد سے زیادہ غیر معروضی اور من مانے ’’غیر تکنیکی خطرات‘‘ شامل کئے گئے ہیں۔ یہ اقتصادی و تجارتی امور کو سیاسی رنگ دینے اور سکیورٹی کے تصور کو حد سے بڑھانے کی ایک عام مثال ہے۔

سو نے کہا کہ مجوزہ انڈسٹریل ایکسیلیریٹر ایکٹ غیر ملکی سرمایہ کاری پر متعدد پابندیاں عائد کرتا ہے اور سرکاری خریداری و عوامی معاونت کی پالیسیوں میں یورپی یونین کے ماخذ سے متعلق امتیازی شقیں شامل کرتا ہے جو سرمایہ کاری میں رکاوٹ اور ادارہ جاتی امتیاز کے مترادف ہیں۔

سو نے مزید کہا کہ یہ دونوں تجاویز مبینہ طور پر عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں اور چین اور یورپی یونین کے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو نمایاں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ تجاویز عالمی صنعتی و سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہیں اور خود یورپی یونین کی ڈیجیٹل اور ماحول دوست منتقلی پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

سو پینگ نے کہا کہ چین یورپی یونین کے ساتھ تعمیری مکالمہ اور مشاورت جاری رکھنے کے لئے تیار ہے اور متعلقہ قانون سازی کے عمل پر گہری نظر رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین ان مسودوں کو قانونی شکل دیتی ہے اور چینی کمپنیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے تو چین کو جوابی اقدامات کرنا پڑیں گے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں