افغانستان میں طالبان رجیم پر عالمی برداری کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کے تقریباً 55 ارکان اور عہدیداروں کے القاعدہ سیاب بھی بلاواسطہ اور بالواسطہ تعلقات قائم ہیں، افغان عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند اور نائب وزیراعظم سمیت افغان طالبان کی 33 رکنی کابینہ میں 13سے 14ارکان اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، افغان عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ امیر خان متقی اور دیگر کئی وزراء بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
افغان رہنمائوں کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ سفری اور اسلحہ کی خریداری کی پابندیاں عائد ہیں، پابندیوں کی موجودہ فہرست میں طالبان سے وابستہ مجموعی طور پر 135 افراد اور 5 اداروں کے نام بھی شامل ہیں۔


