روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے عالمی صورتحال، یورپ، نیٹو، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کی قیادت بیرونی پالیسیوں پر چل رہی ہے، یوکرین تنازع اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ یہ برسوں پر محیط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جن میں نیٹو کی توسیع بنیادی وجہ ہے، روس نے بارہا مغربی ممالک کو سکیورٹی کے متبادل نظام کی پیشکش کی لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے مغربی ممالک کے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نظام یکساں اصولوں پر نہیں چلتا بلکہ حالات کے مطابق بدل دیا جاتا ہے، کبھی خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور کبھی علاقائی سالمیت کو، جس سے عالمی قوانین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے یوکرین کے حوالے سے الزام لگایا کہ اسے روس کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل اور سٹریٹجک راستوں پر کنٹرول کی کوششیں خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہیں، عالمی طاقتیں وینزویلا اور دیگر خطوں میں وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
لاوروف نے کہا کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا مرکز صرف ایک یا دو ممالک نہیں رہیں گے، برکس اور دیگر علاقائی اتحاد اس تبدیلی کی علامت ہیں۔


