ہومپاکستانوزیراعظم نے امن و استحکام کو پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دے...

وزیراعظم نے امن و استحکام کو پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دے دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے امن و استحکام کو پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے کنٹرول سے مشروط ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی کرے، ہم تعاون کیلئے تیارہیں، پاکستان ثابت کرچکا اپنی خودمختاری وعلاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، مضبوط و خوشحال مستقبل کیلئے مالیاتی اداروں و ترقیاتی شراکت داروں کیساتھ اصلاحات و سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سرگرم ہیں۔

منگل کو بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے سپیکرز، پارلیمنٹرینز اور مندوبین کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے اس اہم کانفرنس کا انعقاد باعث اعزاز ہے جس کے ذریعے پارلیمانی قیادت امن، سلامتی اور ترقی کے مشترکہ وژن پر تبادلہ خیال کیلئے یہاں جمع ہے۔

انہوں نے چیئرمین سینیٹ اور آئی ایس سی کے بانی یوسف رضا گیلانی کو خاص طور پر سراہا جن کی کاوشوں اور عزم نے اس فورم کو حقیقت میں ڈھالا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کانفرنس کا موضوع امن، سلامتی اور ترقی نہایت بروقت اور انتہائی اہم ہے، اگرچہ یہ موضوع یہاں موجود تمام ممالک کیلئے اہمیت رکھتا ہے لیکن پاکستان کیلئے یہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1947میں آزادی کے بعد سے پاکستان ہمیشہ سے ہی مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے امن کا حامی رہا ہے، ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امن اور سلامتی ہی دیرپا قومی و علاقائی ترقی کی بنیاد ہے، امن کی حقیقی قدر اس وقت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے جب ہم ان تنازعات کا سامنا کرتے ہیں جن کی وجہ سے آج بھی دنیا سلگ رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے بھی اس بحرانی کیفیت کا سامنا بلا واسطہ اور بالواسطہ دونوں انداز سے کیا مگر ہم نے ہمیشہ امن اور استحکام کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ رواں سال مئی میں پاکستان کو مشرقی سرحد سے بلا اشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ہماری پیشہ ورانہ اور بہادر مسلح افواج نے شاندار تیاری اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہماری بروقت و فیصلہ کن زمینی و ہوائی کارروائی نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار کردی کہ پاکستان اپنے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع سے کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوںنے کہا کہ ایک پرامن افغانستان علاقائی روابط، ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے مگر بدقسمتی سے وہاں امن کا حصول کئی دہائیوں سے ناکام رہا ہے لیکن پاکستان نے کبھی امید ترک نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتے ہیں اور اس مقصد کیلئے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ عسکریت پسند گروہ نہ صرف افغانستان کے اندر بلکہ سرحد پار بھی امن کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں، گزشتہ ماہ جب ہماری سرحدی چوکیوں پر افغانستان کی جانب سے حملہ کیا گیا تو ہمارا جواب دو ٹوک اور فیصلہ کن تھا، ہم نے ان عناصر کو ناقابل فراموش سبق سکھایا۔

وزیر اعظم نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری پر برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ دیرپا امن اسی وقت ممکن ہے جب ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کو کنٹرول کیا جائے جو افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ افغان عبوری حکومت بھی ہمارے جائز تحفظات کے حل کیلئے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی ہے خواہ وہ غزہ کا معاملہ ہو یا بھارتی غیر قانونی قبضے کے شکار جموں و کشمیر کے مظلوم عوام یا وہ تمام اقوام جنہیں آج بھی بنیادی حقوق اور آزادیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مستقل وابستگی امن اور سلامتی کے فروغ سے ہے، چاہے وہ اقوام متحدہ ہو، او آئی سی، ای سی او، ایس سی او یا دیگر اہم عالمی پلیٹ فارمز۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تنازعات کی آگ غربت، عدم مساوات اور ناانصافی سے بھڑکتی ہے جبکہ محرومی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے عدم استحکام اور تنازعات سے نمٹنے کیلئے ترقی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہماری حکومت نے جامع اصلاحات کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد سب کی شمولیت سے ترقی کی راہ پر گامزن ہونا، ادارہ جاتی مضبوطی اور نوجوانوں و خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اسی لئے ہم ایس ایم ای فنانسنگ بڑھا رہے ہیں تاکہ روزگار پیدا ہو، جدت آئے اور معاشی وسیع البنیاد شمولیت ممکن ہو۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، مالی وسائل تک ان کی رسائی آسان بنائی جا رہی ہے اور قیادت کے مواقع دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پاکستان کی معاشی و سماجی تبدیلی میں حصہ ڈال سکی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی محاذ پر پاکستان عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مالیاتی اصلاحات، کلائمیٹ ریزیلنس اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سرگرم ہے جو ایک مضبوط اور خوشحال مستقبل کیلئے ناگزیر ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے عوام کی مقدس امانت کے نگہبان ہیں اور اور ہمیں ان کی امیدوں پر پورا اترنا ہے، اپنی پوری اہلیت اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی قوم کی اجتماعی بہتری کیلئے کام کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ امید ہے کانفرنس میں ہونیوالی بامقصد گفتگو نئے راستے دکھائے اور مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں